مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvi of 769

مسیح ہندوستان میں — Page xxvi

12 یہ مضمون آپ نے یکم اگست ۱۸۹۹ء تک لکھ لیا۔(دیکھئے صفحہ ۱۷۱ جلدھٰذا) اس کے بعد آپ نے ضمیمہ رسالہ تریاق القلوب کے طور پر لیکھرام کی پیشگوئی کا ذکر کر کے اس میں چار ہزار مصدقین میں سے جنہوں نے اپنے دستخطوں سے اس پیشگوئی کے پورا ہونے کی تصدیق کی تھی، ۲۷۹ نام بطور نمونہ درج کئے۔(دیکھئے صفحہ ۱۷۲۔۱۹۱ جلدھٰذا) اور ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ۲ میں ان نشانوں کا ذکر فرمایا جو ۲۰؍ اگست ۱۸۹۹ء تک ظہور میں آ چکے تھے۔اور ضمیمہ نمبر ۳ میں ’’گورنمنٹ عالیہ میں ایک درخواست‘‘ مرقومہ ۲۷؍ ستمبر ۱۸۹۹ء اور ضمیمہ نمبر ۴ میں ایک الہامی پیشگوئی کا اشتہار مرقومہ ۲۲؍ اکتوبر ۱۸۹۹ء اور ضمیمہ نمبر ۵ میں ’’ اس عاجز غلام احمد قادیانی کی آسمانی گواہی طلب کرنے کے لئے ایک دعا اور حضرت عزّت سے اپنی نسبت آسمانی فیصلہ کی درخواست‘‘ مرقومہ ۵؍نومبر ۱۸۹۹ء اور ’’اشتہار واجب الاظہار‘‘ مرقومہ ۴؍ نومبر ۱۹۰۰ء درج فرمائے۔اس آخری اشتہار میں آپ نے اپنی جماعت کا نام ’’ مسلمان فرقہ احمدیہ‘‘ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے جمالی نام احمدؐ کی بنا پر رکھا۔(دیکھئے صفحہ ۵۲۷ جلدھٰذا) زما نہ تالیف یاد رہے کہ تریاق القلوب کا زمانہ تالیف سوائے ’’اشتہار واجب الاظہار‘‘ کے جو ۴؍ نومبر ۱۹۰۰ء کا ہے ۱۸۹۹ء ہے نہ کہ ۱۹۰۲ء جیسا کہ ٹائٹل پیج اور ضمیمہ نمبر ۲ کے اخیر میں لکھا گیا ہے اور اصل حقیقت جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ بنصرہ العزیز نے اپنی کتاب حقیقۃ النبوۃ میں حقائق واقعیہ اور دلائل قاطعہ کی رُو سے تحریر فرمایا ہے، یہ ہے:۔’’تریاق القلوب ۱۸۹۹ء سے لکھی جانی شروع ہوئی اور جنوری ۱۹۰۰ء تک بالکل تیار ہو چکی تھی۔لیکن چونکہ ان دنوں میں ایک وفد نصیبین جانے والا تھا۔اس لئے حضرت مسیح موعودؑ نے ایک عربی رسالہ لکھنا شروع کر دیا اور اس کی اشاعت رُک گئی۔۱۹۰۲ء میں جبکہ کتب خانہ کا چارج حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کے ہاتھ میں تھا آپ نے حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ خلیفہ اول سے عرض کی کہ بعض کتب بالکل تیار ہیں لیکن اس وقت تک شائع نہیں ہوئیں۔آپ حضرت مسیح موعودؑ