مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvii of 769

مسیح ہندوستان میں — Page xxvii

13 سے عرض کریں کہ ان کے شائع کرنے کی اجازت فرماویں۔چنانچہ آپ نے حضرت مسیح موعودؑ سے ذکر کیا اور حضورؑ نے اجازت دے دی۔تریاق القلوب ساری چھپ چکی تھی اور صرف ایک صفحہ کے قریب مضمون حضرت اقدسؑ کے ہاتھ کا لکھا ہوا کاتب کے پاس بچا پڑا تھا اس کے ساتھ حضرت اقدسؑ نے ایک صفحہ کے قریب مضمون اور بڑھا دیا اور کل دو صفحہ آخر میں لگا کر (یعنی ضمیمہ ۲ کے آخر میں۔شمس) کتاب شائع کر دی گئی‘‘ (حقیقۃ النبوۃ۔انوارالعلوم جلدنمبر۲ صفحہ ۳۶۵) چنانچہ تریاق القلوب کے کاتب حضرت پیر منظور محمد رضی اﷲ عنہ نے یہ حلفیہ شہادت دی کہ ’’تریاق القلوب صفحہ ۱۵۸ تک (جلد ھٰذا کے صفحہ ۴۸۳ تک۔شمس) میرے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔یہاں تک لکھنے اور چھپنے کے بعد تریاق القلوب بہت مدت تک چھپنے اور شائع ہونے سے رُکی رہی۔پھر اس کے بعد۱۹۰۲ء میں جب اس کتاب کی اشاعت ہونے لگی تو آخری کاپی سے بچا ہوا کچھ مضمون میرے پاس پڑا ہوا تھا جو قریب ایک صفحہ کے تھا۔وہ میں نے حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کو دے دیا۔جو دوسرے کاتب سے لکھوایا گیا۔چھپنے کے بعد جب میں نے دیکھا تو اس بچے ہوئے مضمون کے ساتھ ایک صفحہ اور بڑھا کر (یعنی صفحہ ۱۶۰ اور جلد ھٰذا کا صفحہ ۴۸۵‘۴۸۶۔شمس) کتاب کو ختم کر دیا گیا تھا۔میں حلفیہ کہتا ہوں کہ تمام تریاق القلوب میں صرف ٹائٹل کا صفحہ اور صفحہ ۱۵۹ اور صفحہ ۱۶۰ یعنی کل تین صفحے دوسرے کاتب کے لکھے ہوئے ہیں اور باقی کل تریاق القلوب مع ضمیمہ نمبر ۳ و ضمیمہ نمبر ۴ و ضمیمہ نمبر ۵ میرے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔‘‘ (حقیقۃ النبوۃ۔انوارالعلوم جلدنمبر۲ صفحہ ۳۶۹،۳۷۰) اور حضرت کرم علی کاتب رضی اﷲ عنہ نے یہ حلفیہ شہادت دی۔’’میں حلفیہ شہادت دیتا ہوں کہ تریاق القلوب کا صفحہ ٹائٹل پیج (TITLE PAGE) اور آخری ورق یعنی صفحہ ۱۵۹۔اور صفحہ ۱۶۰ میرے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے اور حکیم فضل الدین صاحب مرحوم نے مجھے مضمون دیا تھا کیونکہ ان دنوں میں مَیں ان کے ماتحت