مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxv of 769

مسیح ہندوستان میں — Page xxv

11 تئیں ملہم اور صاحب الہام جانتا ہے مجھے مقام بٹالہ یا امرتسر یا لاہور میں طلب کرے اور ہم دونوں جناب الٰہی میں دعا کریں کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جناب الٰہی میں سچا ہے۔ایک سال میں کوئی عظیم الشان نشان جو انسانی طاقتوں سے بالاتر اور معمولی انسانوں کے دسترس سے بلند تر ہو۔اس سے ظہور میں آوے۔۔۔پھر اس دعا کے بعد ایسا شخص جس کی کوئی خارق عادت پیشگوئی یا اور کوئی عظیم الشان نشان ایک برس کے اندر ظہور میں آجائے اور اس عظمت کے ساتھ ظہور میں آئے جو اس مرتبہ کا نشان حریف مقابل سے ظہور میں نہ آ سکے تو وہ شخص سچا سمجھا جائے گا جس سے ایسا نشان ظہور میں آیا۔اور پھر اسلام میں سے تفرقہ دور کرنے کے لئے شخص مغلوب پر لازم ہو گا کہ اس شخص کی مخالفت چھوڑ دے اور بلاتوقف اور بلاتامل اس کی بیعت کر لے اور اس خدا سے جس کا غضب کھا جانے والی آگ ہے ڈرے۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد نمبر۱۵ صفحہ ۱۷۰) پھر آپ نے الہام شیطانی اور الہام ربّانی میں یہ فرق بتایا کہ ’’پس ہر ایک شخص کا الہام جو نرے الفاظ ہوں اور کوئی فوق العادت امر اُن میں نہ ہو‘ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔اور کوئی الہام ہرگز قابلِ پذیرائی نہیں جب تک کہ اس میں الٰہی شوکت نہ ہو۔اور الٰہی شوکت یہ ہے کہ فوق العادت اور عظیم الشان پیشگوئیاں جو الُوہیت کی قدرت اور علم سے بھری ہوئی ہوں اس الہام میں پائی جائیں یا دوسرے الہاموں میں جو اسی شخص کے منہ سے نکلے ہوں۔اور باایں ہمہ یہ شرط بھی ہو گی کہ اس مجلس کے انعقاد سے دس۱۰ دن پہلے بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے مجھ کو خبر کر دی جائے کہ ان تینوں مقامات متذکرہ بالا میں سے فلاں مقام اور نیز فلاں تاریخ اور وقت اس کام کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔اس اطلاع دہی کے اشتہار پر بیس۲۰ معزز اور نامور علماء اور شہر کے رئیسوں کے دستخط ہونے چاہئیں تا ایسا نہ ہو کہ کوئی سفلہ محض ہنسی اور شرارت سے ایسا اشتہار شائع کر دے۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد نمبر۱۵ صفحہ ۱۷۰،۱۷۱)