مجموعہ آمین — Page 560
54 آپؐ کی ذات حالات اور زندگی کے بارہ میں عیسائی پادریوں کے اعتراضات ۱۸۰ آپؐ کے معجزات سے عیسائی پادری انکار کرتے ہیں لیکن مقابل پر نہیں آتے ۱۵۰ آپؐ کی شان میں گستاخی اور تکذیب پر مبنی عیسائی پادریوں کی کتابیں ۳۰،۳۱ محمدلدھیانوی ، مولوی ۱۷۷،۲۸۶،۳۶۶۔ح محمد اسماعیل مرزا پشاوری انسپکٹر مدارس ۱۴۵۔ح محمد اسماعیل ،مولوی صفائی سے خدا سے درخواست کی کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے وہ مر جائے سو خدا نے اسے اس جہاں سے جلد رخصت کر دیا ۴۸ محمد باقر ؒ ، امام ۱۳۵،۱۳۷،۴۱۵ حدیث کسوف خسوف آپ کی روایت ہے ۶۳ محمد بشیر بھوپالوی ، مولوی ۳۷،۳۸۶ محمد حسن ابو الفیض ساکن بھیں، مولوی ۳۸،۳۸۷،۴۸۴ محمد حسن ، مولوی ، لدھیانہ ۳۷،۱۷۸،۳۸۶ محمد حسین بٹالوی ، مولوی ابو سعید ۳۶،۴۷،۱۳۴،۱۵۶،۱۶۱،۱۷۷،۳۶۸،۳۷۵، ۳۷۸،۳۹۳،۳۹۶،۴۵۵،۴۸۰،۴۸۴ محمدحسین نے براہین احمدیہ کا ریویو لکھا ۴۳،۳۵۰،۳۵۱ براہین احمدیہ میں موجود پیشگوئی کے بارہ برس بعد مولوی محمد حسین اول المکفرین بنے۔پیشگوئی کے وقت میری نسبت خادموں کی طرح اپنے تئیں سمجھتے تھے ۲۱۵ حضور کو نابود کرنے کیلئے بہت کچھ ہاتھ پیر مارے مگر اس کا انجام کیا ہوا ۴۵۔ح بٹالوی نے فتویٰ تکفیر لکھا اور میاں نذیر حسین دہلوی کو کہا کہ سب سے پہلے اس پر مہر لگاوے ۲۱۵ لوگوں کو حضور کی بیعت سے روکتا رہا لیکن ناکام ہوا اور عدالت میں بھی رسوا ہو ا ۴۶۔ح محض فضول گوئی سے خدا سے لڑا اور دعویٰ کیا کہ میں نے ہی اسے اونچا کیا اور میں ہی اسے گراؤں گا ۳۹۵۔ح،۳۹۶۔ح حضور کے خلاف مقدمہ قتل میں عیسائی پادریوں کا ساتھ دینے کیلئے کپتان ڈگلس کی عدالت میں گواہی دی ۲۱۰۔ح محمد حسین اور جعفر زٹلی کا حضرت اماں جان کی نسبت محض شرارت سے گندی خوابیں بنا کر سراسر بے حیائی کی راہ سے شائع کرنا ۱۹۹۔ح محمد حسین حکیم تاجر مرہم عیسیٰ ۳۸،۳۸۷ محمد حسین قریشی، حکیم ۳۸،۳۸۷ محمد صادق،ؓ مفتی ۳۸،۴۱،۳۸۷،۳۹۰ محمد صدیق دیو بند مولوی حال مدرس بچھرایوں ضلع مراد آباد ۳۷،۳۸۶ محمد علی بوپڑی ۱۷۶،۱۷۸ محمد علی خان صاحب نوابؓ ۳۸،۳۸۷ محمد علی صاحب کلرک، صوفی ۳۸،۳۸۷ محمد علی مولوی ، سیکرٹری ندوۃ العلماء ۳۸،۳۸۷ محمد یحییٰ دیپ گراں (ہزارہ) ‘ مولوی حکیم حضرت کوٹھہ والے صاحب کے خلیفہ کے خلف الرشید ۱۴۵۔ح،۱۴۷۔ح،۱۴۸۔ح محمد یعقوب منشی برادر حافظ محمد یوسف ضلعدار نہر ۵۶۔ح،۴۰۷ حافظ محمد یوسف کے بھائی اور مولوی عبداللہ غزنوی صاحب کے الہام و پیشگوئی بابت حضور کے گواہ ۵۷،۴۶۲۔ح،۴۶۴ منشی محمد یعقوب صاحب نے مولوی عبداللہ غزنوی کا یہ بیان چار سو لوگوں کے درمیان امرتسر میں سنایا تھا ۴۶۵۔ح