لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 272

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۷۲ لیکچرلدھیانہ مسیح کے خون سے ہاتھ دھوئے مگر باوجود اس کے کہ وہ مرید تھا اور گورنر تھا اُس نے اس جرات سے کام نہیں لیا جو کپتان ڈگلس نے دکھائی ۔ وہاں بھی مسیح بے گناہ تھا اور یہاں بھی میں بے گناہ تھا۔ میں سچ کہتا ہوں اور تجربہ سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو حق کے لئے ایک جرات دی ہے۔ پس میں اس جگہ پر تمام مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان پر فرض ہے کہ وہ سچے دل سے گورنمنٹ کی اطاعت کریں۔ یہ بخوبی یا درکھو کہ جو شخص اپنے محسن انسان کا شکر گزار نہیں ہوتا وہ خدا تعالیٰ کا شکر بھی نہیں کر سکتا۔ جس قدر آسائش اور آرام اس زمانہ میں حاصل ہے اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ ریل ،تار، ڈاکخانہ، پولیس وغیرہ کے انتظام دیکھو کہ کس قدر فوائد ان سے پہنچتے ہیں۔ آج سے ساٹھ ستر برس پہلے بتاؤ کیا ایسا آرام اور آسانی تھی؟ پھر خود ہی انصاف کرو جب ہم پر ہزاروں احسان ہیں تو ہم کیوں کر شکر نہ کریں۔ اکثر مسلمان مجھ پر حملہ کرتے ہیں کہ تمہارے سلسلہ میں یہ عیب ہے کہ تم جہاد کو موقوف کرتے ہو ۔ مجھے افسوس ہے کہ وہ نادان اس کی حقیقت سے محض نا واقف ہیں۔ وہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرتے ہیں۔ آپ نے کبھی اشاعت مذہب کے لئے تلوار نہیں اُٹھائی ۔ جب آپ پر اور آپ کی جماعت پر مخالفوں کے ظلم انتہا تک پہنچ گئے اور آپ کے مخلص خدام میں سے مردوں اور عورتوں کو شہید کر دیا گیا اور پھر مدینہ تک آپ کا تعاقب کیا گیا اُس وقت مقابلہ کا حکم ملا۔ آپ نے تلوار نہیں اُٹھائی مگر دشمنوں نے تلوار اُٹھائی بعض اوقات آپ کو ظالم طبع کفار نے سر سے پاؤں تک خون آلود کر دیا تھا مگر آپ نے مقابلہ نہیں کیا۔ خوب یا د رکھو کہ اگر تلوار اسلام کا فرض ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں اُٹھاتے مگر نہیں وہ تلوار جس کا ذکر ہے وہ اُس وقت اٹھی جب موذی کفار نے مدینہ تک تعاقب کیا۔ اس وقت مخالفین کے ہاتھ میں تلوار تھی مگر اب تلوار نہیں اور