لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 271 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 271

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۷۱ لیکچرلدھیانہ اس مقدمہ میں میری مخالفت میں سارا زور لگایا گیا اور یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ بس اب سلسلہ کا خاتمہ ہے۔ اور حقیقت میں اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ سلسلہ نہ ہوتا اور وہی اس کی تائید اور نصرت کے لئے کھڑا نہ ہوتا تو اس کے مٹنے میں کوئی شک وشبہ ہی نہ رہا تھا۔ ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کرم دین کی حمایت کی گئی اور ہر طرح سے اس کو مدد دی گئی۔ یہاں تک کہ اس مقدمہ میں بعض نے مولوی کہلا کر میرے خلاف وہ گواہیاں دیں جو سراسر خلاف تھیں اور یہاں تک بیان کیا کہ زانی ہو، فاسق ہو، فاجر ہو پھر وہ متقی ہوتا ۔ تا ہے ۔ یہ مقدمہ ایک لمبے عرصہ تک ہوتا رہا۔ اس اثنا میں بہت سے نشانات ظاہر ہوئے ۔ آخر مجسٹریٹ نے جو ہندو تھا مجھے پر پانچسو روپیہ جرمانہ کر دیا مگر خدا تعالیٰ نے پہلے سے یہ اطلاع دی ہوئی تھی۔ 66 عدالت عالیہ نے اس کو بری کر دیا ۔“ اس لئے جب وہ اپیل ڈویژنل جج کے سامنے پیش ہوا خدا داد فراست سے انہوں نے فوراً ہی مقدمہ کی حقیقت کو سمجھ لیا اور قرار دیا کہ کرم دین کے حق میں میں نے جو کچھ لکھا تھا وہ بالکل درست تھا یعنی مجھے اس کے لکھنے کا حق حاصل تھا۔ چنانچہ اس نے جو فیصلہ لکھا ہے وہ شائع ہو چکا ہے۔ آخر اس نے مجھے بری ٹھہرایا اور جرمانہ واپس کیا اور ابتدائی عدالت کو بھی مناسب تنبیہ کی کہ کیوں اتنی دیر تک یہ مقدمہ رکھا گیا۔ غرض جب کوئی موقع میرے مخالفوں کو ملا ہے انہوں نے میرے کچل دینے اور ہلاک کر دینے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا اور کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھے ہر آگ سے بچایا اسی طرح جس طرح پر وہ اپنے رسولوں کو بچاتا آیا ہے۔ میں ان واقعات کو مد نظر رکھ کر بڑے زور سے کہتا ہوں کہ یہ گورنمنٹ بمراتب اس رو می گورنمنٹ سے بہتر ہے جس کے زمانہ میں مسیح کو دکھ دیا گیا۔ پیلاطوس گورنر جس کے روبرو پہلے مقدمہ پیش ہوا وہ دراصل مسیح کا مرید تھا اور اس کی بیوی بھی مرید تھی۔ اسی وجہ سے اس نے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ہوا تو “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)