لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 273

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۷۳ لیکچرلدھیانہ میرے خلاف جھوٹی مخبریوں اور فتووں سے کام لیا جاتا ہے۔ اور اسلام کے خلاف صرف قلم سے کام لیا جاتا ہے۔ پھر قلم کا جواب تلوار سے دینے والا احمق اور ظالم ہوگا یا کچھ اور ؟ اس بات کو کبھی مت بھولو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے حد سے گزرے ہوئے ظلم وستم پر تلوار اٹھائی اور وہ حفاظت خود اختیاری تھی جو ہر مہذب گورنمنٹ کے قانون میں بھی جرم نہیں ۔ تعزیرات ہند میں بھی حفاظت خود اختیاری کو جائز رکھا ہے۔ اگر ایک چور گھر میں گھس آوے اور وہ حملہ کر کے مارڈالنا چاہے اس وقت اس چور کو اپنے بچاؤ کے لئے مارڈالنا جرم نہیں ہے۔ پس جب حالت یہاں تک پہنچی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جان نثار خدام شہید کر دیئے گئے اور مسلمان ضعیف عورتوں تک کو نہایت سنگدلی اور بے حیائی کے ساتھ شہید کیا گیا تو کیا حق نہ تھا کہ ان کو سزا دی جاتی۔ اس وقت اگر اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہوتا کہ اسلام کا نام و نشان نہ رہے تو البتہ یہ ہو سکتا تھا کہ تلوار کا نام نہ آتا مگر وہ چاہتا تھا کہ اسلام دنیا میں پھیلے اور دنیا کی نجات کا ذریعہ ہو اس لئے اُس وقت محض مدافعت کے لئے تلوار اُٹھائی گئی۔ میں دعوی سے کہتا ہوں کہ اسلام کا اُس وقت تلوار اُٹھانا کسی قانون ، مذہب اور اخلاق کی رو سے قابل اعتراض نہیں ٹھہرتا۔ وہ لوگ جو ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینے کی تعلیم دیتے ہیں وہ بھی صبر نہیں کر سکتے اور جن کے ہاں کیڑے کا مارنا بھی گناہ سمجھا جاتا ہے وہ بھی نہیں کر سکتے ۔ پھر اسلام پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ میں یہ بھی کھول کر کہتا ہوں کہ جو جاہل مسلمان یہ لکھتے ہیں کہ اسلام تلوار کے ذریعہ پھیلا ہے وہ نبی معصوم علیہ الصلوۃ والسلام پر افترا کرتے ہیں اور اسلام کی ہتک کرتے ہیں۔ خوب یا درکھو کہ اسلام ہمیشہ اپنی پاک تعلیم اور ہدایت اور اس کے ثمرات انوار و برکات اور معجزات سے پھیلا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم الشان نشانات ، آپ کے اخلاق کی پاک تاثیرات نے اسے پھیلایا ہے اور وہ نشانات اور تاثیرات ختم نہیں ہوگئی ہیں بلکہ ہمیشہ