لیکچر لدھیانہ — Page 270
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۷۰ لیکچرلدھیانہ کہ اگر ذرا بھی خلاف بیانی ہوگی تو تو پکڑا جاوے گا اس لئے وہ وہی کہتا گیا مگر کپتان صاحب نے اس کو کہا کہ تو تو پہلے یہی بیان کر چکا ہے۔ صاحب اس سے تسلی نہیں پاتے کیونکہ تو سچ سچ بیان نہیں کرتا۔ جب دوبارہ کپتان لیمار چنڈ نے اس کو کہا تو وہ روتا ہوا اُن کے پاؤں پر گر پڑا۔ اور کہنے لگا کہ مجھے بچا لو۔ کپتان صاحب نے اس کو تسلی دی۔ اور کہا کہ ہاں بیان کرو۔ اس پر اُس نے اصلیت کھول دی اور صاف اقرار کیا کہ مجھے دھمکا کر یہ بیان کرایا گیا تھا۔ مجھے ہرگز ہرگز مرزا صاحب نے قتل کے لئے نہیں بھیجا۔ کپتان اس بیان کو سن کر بہت خوش ہوا اور اُس نے ڈپٹی کمشنر کو تار دیا کہ ہم نے مقدمہ نکال لیا ہے چنانچہ پھر گورداسپور کے مقام پر یہ مقدمہ پیش ہوا۔ اور وہاں کپتان لیمار چنڈ کو حلف دیا گیا اور اس نے اپنا حلفی بیان لکھوایا۔ میں دیکھتا تھا کہ ڈپٹی کمشنر اصلیت کے کھل جانے سے بڑا خوش تھا۔ اور اُن عیسائیوں پر اُسے سخت غصہ تھا جنہوں نے میرے خلاف جھوٹی گواہیاں دی تھیں ۔ اُس نے مجھے کہا کہ آپ ان عیسائیوں پر مقدمہ کر سکتے ہیں مگر چونکہ میں مقدمہ بازی سے متنفر ہوں میں نے یہی کہا کہ میں مقدمہ نہیں کرنا چاہتا۔ میرا مقدمہ آسمان پر دائر ہے۔ اس پر اُسی وقت ڈگلس صاحب نے فیصلہ لکھا۔ ایک مجمع کثیر اُس دن جمع ہو گیا ہوا تھا اُس نے فیصلہ سناتے وقت مجھے کہا کہ آپ کو مبارک ہو۔ آپ بُری ہوئے۔ اب بتاؤ یہ کیسی خوبی اس سلطنت کی ہے کہ عدل اور انصاف کے لئے نہ اپنے مذہب کے ایک سرگروہ کی پروا کی اور نہ کسی اور بات کی ۔ میں دیکھتا تھا کہ اس وقت میری دشمن تو ایک دنیا تھی اور ایسا ہی ہوتا ہے جب دنیا دکھ دینے پر آتی ہے تو درو دیوار نیش زنی کرتے ہیں۔ خدا ہی ہوتا ہے جو اپنے صادق بندوں کو بچالیتا ہے۔ پھر مسٹر ڈوئی کے سامنے ایک مقدمہ ہوا ۔ پھر ٹیکس کا مقدمہ مجھ پر بنایا گیا مگر ان تمام مقدمات میں خدا نے مجھے بری ٹھہرایا۔ پھر آخر کرم دین کا مقدمہ ہوا