لیکچر لاہور — Page 172
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۷۰ لیکچر لاہور ۲۳ میں سے بہت سے دل حق کی طرف پھیر دے کہ تجھے سب قدرت ہے ۔ آمین ۔ یہ پہلو تو پر میشر کے متعلق ہے جس میں اس قدر اُس خالق بے چوں کی حق تلفی ہے اور دوسرا پہلو جو آریہ مت مخلوق کے متعلق پیش کرتا ہے اُن میں سے ایک تو تناسخ ہے یعنی بار بار روحوں کا طرح طرح کی جونوں میں پڑ کر دنیا میں آنا۔ اس عقیدہ میں سب سے پہلے یہ امر عجیب اور حیرت انگیز ہے کہ با وجود دعوی عقل کے یہ خیال کیا گیا ہے کہ پر میشر اس قدرسخت دل ہے کہ ایک گناہ کے عوض میں کروڑ ہا برس تک بلکہ کروڑہا اربوں تک سزا دیے جاتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ اُس کے پیدا کردہ نہیں ہیں اور اُن پر اس کا کوئی بھی حق نہیں ہے بجز اس کے کہ بار بار جونوں کے چکر میں ڈال کر دُکھ میں ڈالے۔ پھر کیوں انسانی گورنمنٹ کی طرح صرف چند سال کی سزا نہیں دیتا ؟ ظاہر ہے کہ لمبی سزا کے لئے یہ شرط ہے کہ سزایافتوں پر کوئی لمباحق بھی ہو مگر جس حالت میں تمام ذرات اور ارواح خود بخود ہیں کچھ بھی اُس کا اُن پر احسان نہیں بجز اس کے کہ سزا کی غرض سے طرح طرح کی جونوں میں اُن کو ڈالے۔ پھر وہ کس حق پر لمبی سزا دیتا ہے۔ دیکھو اسلام میں باوجود یکہ خدا فرماتا ہے کہ ہر ایک ذرہ اور ہر یک روح کا میں ہی خالق ہوں اور تمام قو تیں ان کی میرے ہی فیض سے ہیں اور میرے ہی ہاتھ سے پیدا ہوئے ہیں اور میرے ہی سہارے سے جیتے ہیں۔ پھر بھی وہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ إِلَّا مَا شَاءَ رَبِّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَقَالَ لِمَا يُرِيدُ ۔ یعنی دوزخی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے لیکن نہ وہ ہمیشگی جو خدا کو ہے بلکہ دور دراز مدت کے لحاظ سے۔ پھر خدا کی رحمت دستگیر ہوگی کیونکہ وہ قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے اور اس آیت کی تصریح میں ہمارے سید و مولی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بھی ہے اور وہ یہ ہے یا تی علی جهنم زمان ليس فيها احد و نسيم الصبا تحرک ابوابها | یعنی جہنم پر ایک وہ زمانہ آئے گا کہ اُس میں کوئی بھی نہ ہوگا اور نسیم صبا اُس کے کواڑوں کو ہلائے گی لیکن افسوس کہ یہ تو میں خدا تعالیٰ کو ایک ایسا چڑچڑا اور کینہ ور قرار دیتی ہیں کہ کبھی بھی اُس کا غصہ فرو نہیں ہوتا اور بے شمار اربوں تک جونوں میں ڈال کر پھر بھی گناہ معاف هود : ۱۰۸