لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 597

لیکچر لاہور — Page 173

روحانی ختنه ائن جلد ۲۰ 121 لیکچر لاہور نہیں کرتا ۔ اور یہ اعتراض صرف آریہ صاحبوں پر نہیں حضرات مسیحیوں کا پھر بھی یہی عقیدہ ہے (۲۵)) کہ وہ ایک گناہ کے لئے ابدی جہنم تجویز کرتے ہیں جس کا کبھی انتہا نہیں ۔ اور ساتھ ہی یہ بھی عقیدہ ہے کہ خدا ہر ایک چیز کا خالق ہے۔ پھر جس حالت میں خدا تعالی ارواح انسانی اور اُن کی تمام قوتوں کا خود خالق ہے اور اُس نے آپ ہی بعض طبائع میں ایسی کمزوریاں رکھ دی ہیں کہ وہ مرتکب گناہ کی ہو جاتی ہیں۔ اور ایک گھڑی کی طرح صرف اس حد تک چلتی ہیں جو اُس حقیقی گھڑی ساز نے اُن کے لئے مقرر کر دی ہے تو پھر وہ ضرور کسی قدر رحم کے لائق ہیں کیونکہ اُن کے قصور اور کمزوریاں فقط اپنی طرف سے نہیں بلکہ اُس خالق کا بھی اُن میں بہت سا دخل ہے جس نے ان کو کمزور بنایا۔ اور یہ کیسا انصاف ہے کہ اُس نے اپنے بیٹے کو سزا دینے کے لئے صرف تین دن مقرر کئے مگر دوسرے لوگوں کی سزا کا حکم ابدی ٹھہرایا جس کا کبھی بھی انتہا نہیں اور چاہا کہ وہ ہمیشہ اور ابد تک دوزخ کے تنور میں جلتے رہیں۔ کیا رحیم کریم خدا کو ایسا کرنا مناسب تھا؟ بلکہ چاہیے تو یہ تھا کہ اپنے بیٹے کو زیادہ سزا دیتا کیونکہ وہ بوجہ خدائی قوتوں کے زیادہ سزا کا متحمل ہو سکتا تھا۔ خدا کا بیٹا جو ہوا۔ اُس کی طاقت کے ساتھ دوسروں کی طاقت کب برابر ہو سکتی ہے جو غریب اور عاجز مخلوق ہیں۔ غرض حضرات عیسائی اور آریہ صاحبان اس ایک ہی اعتراض کے دام میں ہیں اور ان کے ساتھ بعض نادان مسلمان بھی لیکن مسلمانوں کے دھوکہ کھانے میں خدا کے کلام کا قصور نہیں۔ خدا نے تو کھول کر فرما دیا کہ یہ اُن کا اپنا قصور ہے۔ اور یہ اسی طرح کا قصور ہے جیسا کہ وہ اب تک حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ قرار دیتے ہیں اور دوسرے آسمان پر بٹھا رہے ہیں اور خدا کے کلام قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ مدت ہوئی کہ حضرت عیسی فوت ہو چکے ہیں اور گذشتہ روحوں میں داخل ہو گئے مگر یہ لوگ کتاب اللہ کے برخلاف اُن کی آمد ثانی کا انتظار کر رہے ہیں۔ پھر ہم اصل کلام کی طرف متوجہ ہو کر کہتے ہیں کہ دوسرا پہلو تناسخ کے بطلان کا یہ ہے کہ وہ حقیقی پاکیزگی کے