لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 597

لیکچر لاہور — Page 171

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۶۹ لیکچر الامور عالم کا انا دی ہے جو خود بخود ہے۔ اور کسی کے ہاتھ سے وجود پذیر نہیں ہوا۔ اور تمام ارواح بھی مع اپنی تمام قوتوں کے انادی ہیں جن کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں ۔ تو اُن کے ہاتھ میں پر میشر کی ہستی پر کونسی دلیل باقی رہی؟ اور اگر کہیں کہ ذرات عالم کا باہم جوڑنا اور روحوں کا ان میں داخل کرنا یہ پرمیشر کا کام ہے اور یہی اُس کی ہستی پر دلیل ہے تو یہ خیال نادرست ہوگا کیونکہ جس حالت میں ارواح اور ذرات خود بخود ایسے شکتی مان ہیں کہ قدیم سے اپنے وجود کو آپ سنبھالے ہوئے ہیں اور اپنے وجود کے آپ ہی خدا ہیں ۔ تو کیا وہ خود بخود باہم اتصال یا انفصال نہیں کر سکتے ؟ اس بات کو کوئی قبول نہیں کرے گا کہ باوجود اس کے کہ تمام ذرات یعنی پر مانو اپنی ہستی اور وجود میں کسی دوسرے کے محتاج نہیں اور باوجود اس کے کہ تمام ارواح یعنی جیو اپنی ہستی اور وجود میں اور اپنے تمام قویٰ میں کسی دوسرے کے محتاج نہیں مگر پھر بھی اپنے اتصال اور انفصال میں کسی دوسرے کے محتاج ہیں۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے کہ جو ناستک مت والوں کے لئے ایک مفت کا شکار ہے اور اس سے ایک آریہ بہت جلد ناستک مت میں داخل ہو سکتا ہے اور ایک چالاک دہر یہ ہنسی ہنسی میں اس کو اپنے بیچ میں لاسکتا ہے۔ مجھے بہت افسوس ہے اور رحم بھی آتا ہے کہ آریہ صاحبوں نے شریعت کے دونوں پہلوؤں میں سخت غلطی کھائی ہے یعنی پر میشر کی نسبت یہ عقیدہ قائم کیا ہے کہ وہ مبدء تمام مخلوق کا نہیں اور نہ سر چشمہ تمام فیوض کا ہے بلکہ ذرات اور ان کی تمام قوتیں اور ارواح اور ان کی تمام قوتیں خود بخود ہیں۔ اور اُن کی فطرتیں اس کے فیوض سے محروم ہیں۔ پھر خود سوچ لیں کہ پر میشر کی کیا ضرورت ہے اور کیوں وہ مستحق پرستش ہے اور کس وجہ سے وہ سرب شکتی مان کہلاتا ہے اور کس راہ سے اور کس طریق سے وہ شناخت کیا گیا ہے۔ کیا کوئی اس کا جواب دے سکتا ہے؟ کاش ہماری ہمدردی کسی دل میں اثر کرے۔ کاش کوئی شخص گوشہ تنہائی میں بیٹھے اور ان باتوں میں فکر کرے۔ اے قادر خدا! اس قوم پر بھی رحم کر جو ہمارے پرانے ہمسایہ ہیں ۔ اُن