لیکچر لاہور — Page 170
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۶۸ لیکچر لاہور ۲۲ پس وید میں سے اس کامل تسلی کو ڈھونڈ نا کہ کسی کو خدا کے انا الموجود ہونے کی آواز آوے اور خدا دعاؤں کو سن کر ان کا جواب دیوے اور نشانوں کے ذریعہ سے اپنا چہرہ دکھاوے ایک عبث کوشش اور لا حاصل تلاش ہے بلکہ ان کے نزدیک یہ تمام امر محالات میں سے ہیں لیکن صاف ظاہر ہے کہ کسی چیز کا خوف یا محبت بغیر اس کی رؤیت اور کامل معرفت کے ممکن ہی نہیں اور صرف مصنوعات پر نظر ڈالنے سے کامل معرفت ہو نہیں سکتی۔ اسی وجہ سے محض عقل کے پیروؤں میں ہزاروں دہریہ اور ناستک مت والے بھی موجود ہیں بلکہ جو لوگ فلسفہ کے پورے کمال تک پہنچتے ہیں وہی ہیں جن کو پورے دہر یہ کہنا چاہئے ۔ اور ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ عقل سلیم زیادہ سے زیادہ صرف اس حد تک کام دے سکتی ہے کہ مصنوعات پر نظر ڈالنے سے بشرطیکہ دہر یہ پن کا رنگ اپنے اندر نہ رکھتی ہو یہ تجویز کرسکتی ہے کہ ان چیزوں کا کوئی خالق ہونا چاہیے نہ یہ کہ وہ خالق فی الواقع موجود بھی ہے اور پھر عقل ہی اس وہم میں گرفتار ہو سکتی ہے کہ ممکن ہے کہ یہ سب کارخانہ خود بخود چلا آتا ہو اور طبعی طور پر بعض چیزیں بعض کی خالق ہوں ۔ پس عقل اس یقین کامل تک نہیں پہنچا سکتی جس کا نام معرفت تامہ ہے جو قائم مقام دیدار الہی ہے اور جس سے کامل طور پر خوف اور محبت پیدا ہوتے ہیں اور پھر خوف اور محبت کی آگ سے ہر یک قسم کا گناہ جل جاتا ہے اور نفسانی جذبات پر موت آجاتی ہے اور ایک نورانی تبدیلی پیدا ہو کر تمام اندرونی کمزوریاں اور گناہ کی غلاظتیں دور ہو جاتی ہیں لیکن چونکہ اکثر انسانوں کو اس کامل پاکیزگی کی پرواہ نہیں ہے جو گناہ کے داغ سے بالکل میرا کرتی ہے اس لئے اکثر لوگ اس ضرورت کو محسوس کر کے اُس کی تلاش میں نہیں لگ جاتے بلکہ اُلٹے تعصب سے پُر ہو کر مخالفت ظاہر کرتے ہیں اور لڑنے کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں اور آریہ صاحبوں کا مسلک تو بہت ہی قابل افسوس ہے کہ وہ معرفت تامہ کے حقیقی وسیلہ سے تو قطعا نومید ہیں اور عقلی وسائل بھی اُن کے ہاتھ میں نہیں رہے کیونکہ جب کہ اُن کے نزدیک ذرہ ذرہ