کتاب البریہ — Page 49
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۹ کتاب البرنيه ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی راہ یا یوں کہو کہ ہدایت کے اسباب اور وسائل تین ہیں۔ یعنی ایک یہ کہ کوئی گم گشتہ محض خدا کی کتاب کے ذریعہ سے ہدایت یاب ہو جائے۔ اور دوسرے یہ کہ اگر خدا تعالیٰ کی کتاب سے اچھی طرح سمجھ نہ سکے تو عقلی شہادتوں کی روشنی اس کو راہ دکھلا دے۔ اور تیسرے یہ کہ اگر عقلی شہادتوں سے بھی مطمئن نہ ہو سکے تو آسمانی نشان اس کو اطمینان بخشیں۔ یہ تین طریق ہیں جو بندوں کے مطمئن کرنے کے لئے قدیم سے عادۃ اللہ میں داخل ہیں یعنی ایک سلسلہ کتب ایمان یہ جو سماع اور نقل کے رنگ میں عام لوگوں تک پہنچتا ہے جن کی خبروں اور ہدایتوں پر ایمان لانا ہر ایک مومن کا فرض ہے اور ان کا مخزن اتم اور اکمل قرآن شریف ہے۔ دوسرا سلسلہ معقولات کا جس کا منبع اور ماخذ دلائل عقلیہ ہیں۔ تیسر اسلسلہ آسمانی نشانوں کا جس کا سر چشمہ نبیوں کے بعد ہمیشہ امام الزمان اور مجد والوقت ہوتا ہے۔ اصل وارث ان نشانوں کے انبیاء علیہم السلام ہیں۔ پھر جب ان (۲۹) کے معجزات اور نشان مدت مدید کے بعد منقول کے رنگ میں ہو کر ضعیف التاثیر ہو جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ ان کے قدم پر کسی اور کو پیدا کرتا ہے تا پیچھے آنے والوں کے لئے نبوت کے عجائب کرشمے بطور منقول ہو کر مردہ اور بے اثر نہ ہو جائیں۔ بلکہ وہ لوگ بھی بذات خود نشانوں کو دیکھ کر اپنے ایمانوں کو تازہ کریں۔ غرض خدا تعالیٰ کے وجود اور راہ راست پر یقین لانے کے لئے یہی تین طریقے ہیں جن کے ذریعہ سے انسان تمام شبہات سے نجات پاتا ہے۔ اگر خدا کی کتاب اور اس کے مندرجہ منجزات اور نشان اور ہدایتیں جو اس زمانہ کے عام لوگوں کی نظر میں بطور منقول کے ہیں کسی پر مشتبہ رہیں تو ہزاروں عقلی دلائل ان کی تائید میں کھڑے ہوتے ہیں اور اگر عقلی دلائل بھی کسی سادہ لوح پر مشتبہ رہیں تو پھر ڈھونڈنے والوں کے لئے آسمانی نشان بھی موجود ہیں لیکن بڑے بد قسمت وہ لوگ ہیں کہ جو باوجود ان تینوں راہوں کے کھلے ہونے کے پھر بھی ہدایت پانے سے بے نصیب رہتے ہیں ۔ اور در حقیقت ہمارے اندرونی اور بیرونی مخالف اسی قسم کے ہیں۔ مثلاً اس زمانہ کے مولویوں کو