کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 630

کتاب البریہ — Page 48

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۸ كتاب البرية ان کے دل کو حق کی مناسبت سے دور ڈال دیا اور آخر کو معاندانہ جوش کے اثروں سے ایک عجیب کایا پلٹ ان میں ظہور میں آئی اور ایسے بگڑے کہ گویا وہ وہ نہ رہے اور رفتہ رفتہ نفسانی مخالفت کے زہر نے ان کے انوار فطرت کو دبا لیا۔ سو ایسا ہی ہمارے اندرونی مخالفوں کا حال ہوا۔ مسیح کا بروز کے طور پر نازل ہونا جس کو تمام محقق مانتے چلے آئے ہیں یہ ایک ایسا مسئلہ نہ تھا جو کسی اہل علم کی سمجھ میں نہ آوے۔ بڑے بڑے اکابر اس کو مان چکے ہیں۔ یہاں تک کہ محی الدین ابن العربی صاحب بھی اپنی تفسیر میں صاف لفظوں میں کہتے ہیں کہ نزول مسیح اس طرح پر ہوگا کہ اس کی روح کسی اور بدن سے تعلق کرے گی یعنی اس کی خواور طبیعت پر جو (۲۸) ایک روحانی امر ہے کوئی اور شخص پیدا ہو گا ۔ سوخدا تعالیٰ ان لوگوں کو مدد دینے کے لئے طیار تھا اگر وہ مدد لینے کے لئے طیار ہوتے مگر وہ تو بخل اور تعصب سے بہت دور جا پڑے اور نہ چاہا کہ خدا تعالیٰ ان کے دلوں کو منور کرے۔ ہاں میں یقین رکھتا ہوں کہ ان کی اس ضد اور مخالفت میں بھی خدا تعالیٰ کی ایک حکمت ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے کہ جن روحانی امراض کو وہ اپنی مکاری سے پوشیدہ رکھتے تھے اور اس طرح پر خلقت کو بھی دھوکہ دیتے اور خود اپنے نفس سے بھی فریب کرتے تھے وہ تمام مرضیں ان پر ظاہر کی جائیں اور ریا کاری کے تمام پردے اٹھا دیئے جائیں۔ سوانہوں نے اپنی نفسانی آندھیوں اور تعصب کے طوفان کی سرگردانیوں سے صدق و ثبات کے پہاڑ سے ٹکر کھا کر اور تلوار کی تیز دھار پر ہاتھ مار کر ظاہر کر دیا کہ وہ اپنی فطرت کے رو سے کیسے مہلک زخموں کے لئے مستعد ہو رہے ہیں اور کس طرح کمینہ پن کے خیالات ان کو ہلاکت کی طرف کھینچ رہے۔ ہیں اور ان پر روز کھلتا جاتا ہے کہ کس قدر وجود ان کا طرح طرح کے حسد اور بخل کا مجموعہ اور خود بینی اور تکبر کا سرچشمہ ہے۔ اس طرح پر قوی امید ہے کہ وہ ایک دن اپنے ان تمام حالات پر نظر ڈال کر متنبہ ہو جائیں گے اور آخر ان کو ایک روحانی آنکھ عطا ہوگی جس سے وہ خطرناک راہوں سے مجتنب ہوسکیں گے۔