کتاب البریہ — Page 50
روحانی خزائن جلد ۱۳ کتاب البرية بار بار قرآن اور احادیث سے دکھلایا گیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں مگر انہوں نے قبول نہ کیا۔ پھر عقلی طور پر ان کو شرم دلائی گئی کہ یہ عقیدہ تمہارا عقل کے بھی سراسر مخالف ہے۔ تمہارے ہاتھ میں اس بات کی کوئی نظیر نہیں کہ اس سے پہلے کوئی آسمان سے بھی اترا ہے۔ پھر آسمانی نشان متواتر ان کو دکھلائے گئے اور خدا کی حجت ان پر پوری ہوئی لیکن تعصب ایسی بلا ہے کہ یہ لوگ اب تک اس فاسد عقیدہ کو نہیں چھوڑتے۔ ایسا ہی پادری صاحبان بھی ان تینوں طریقوں کے ذریعہ سے ہمارے ملزم ہیں۔ مگر پھر بھی اپنے بے اصل عقائد کو چھوڑنا نہیں چاہتے اور نہایت سکتے اور بے جان خیالات پر گرے جاتے ہیں۔ اور وسائل ثلاثہ مذکورہ کے رو سے وہ اس طرح ملزم ٹھہرتے ہیں کہ اگر مثلاً ان کے اُس جسمانی اور محدود خدا کا جس کا نام وہ یسوع رکھتے ہیں پہلی تعلیموں سے پتہ تلاش کیا جائے یا یہودیوں کے اظہار لئے جائیں تو ایک ذرہ سی بھی ایسی تعلیم نہیں ملے گی جس نے ایسے خدا کا نقشہ کھینچ کر دکھلایا ہو۔ اگر یہودیوں کو یہ تعلیم دی جاتی تو ممکن نہ تھا کہ ان کے تمام فرقے اس ضروری تعلیم کو جو ان کی نجات کا مدار تھی فراموش کر دیتے اور کوئی ایک آدھ فرقہ بھی اس تعلیم پر قائم نہ رہتا کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ ایک ایسا عظیم الشان ۳۰ گروہ جس میں ہر زمانہ میں ہزار ہا عالم فاضل موجود رہے ہیں اور جن کے ساتھ ساتھ صد ہا نبی ہوتے چلے آئے ہیں ایک ایسی تعلیم سے ان کو بے خبری ہو جو چودہ سو برس سے برابران کو ملتی رہی اور لاکھوں افراد ان کے ہر صدی میں اس تعلیم میں نشو ونما پاتے رہے۔ اور ہر صدی کے پیغمبر کی معرفت وہ تعلیم نازل ہوتی رہی اور ہر ایک فرقہ ان کا اس تعلیم کا پابند رہا۔ اور ان کے رگ وریشہ میں وہ تعلیم گھس گئی ۔ اور ایسا ہی صدی بعد صدی ان کے نبی نہایت اہتمام سے اس تعلیم کی تاکید کرتے چلے آئے ۔ یہاں تک کہ اس صدی تک نوبت پہنچ گئی جس میں ایک شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا اور وہ لوگ سب کے سب اس دعویٰ