کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 630

کتاب البریہ — Page 45

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۵ کتاب البرية سے مشابہت لوگوں پر ظاہر فرمادے۔ چنانچہ وہ تمام مماثلتیں اس مقدمہ سے ثابت ہوئیں۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری کے لئے ان کے ایک نام کے مرید نے جس کا نام یہودا اسکر یوطی تھا یہودیوں سے تمہیں روپیہ لے کر حضرت مسیح کو گرفتار کروایا۔ ایسا ہی میرے مقدمہ میں ہوا کہ عبد الحمید نامی ایک میرے ادعائی مرید نے نصرانیوں کے پاس جا کر اور ان کی طمع دہی میں گرفتار ہو کر ان کی تعلیم سے میرے پر ارادہ قتل کا مقدمہ بنایا۔ دوسری مماثلت یہ کہ مسیح کا مقدمہ ایک عدالت سے دوسری عدالت میں منتقل ہوا تھا۔ ایسا ہی میرا مقدمہ بھی امرتسر کے ضلع سے گورداسپورہ کے ضلع میں منتقل ہوا۔ تیسری مماثلت یہ کہ پیلاطوس نے حضرت مسیح کی نسبت کہا تھا کہ میں یسوع کا کوئی گناہ نہیں دیکھتا۔ ایسا ہی کپتان ڈگلس صاحب نے عین عدالت میں ڈاکٹر کلارک کے رو برو مجھ کو کہا کہ میں آپ پر کوئی الزام نہیں لگاتا ۔ چوتھی مماثلت یہ کہ جس روز مسیح نے صلیبی موت سے نجات پائی اس روز اس کے ساتھ ایک چور گرفتار ہو کر سزایاب ہو گیا تھا ایسا ہی میرے ساتھ بھی اسی تاریخ یعنی ۲۳ / اگست ۱۸۹۷ء کو اسی گھڑی میں جب میں بری ہوا تو مکتی فوج کا ایک عیسائی بوجہ چوری گرفتار ہو کر اسی عدالت میں پیش ہوا۔ چنانچہ اس چور نے تین مہینہ قید کی سزا پائی۔ پانچویں مماثلت یہ کہ مسیح کے گرفتار کرانے کے لئے یہودیوں اور ان کے سردار کا ہن نے شور مچایا تھا کہ مسیح سلطنت روم کا باغی ہے اور آپ بادشاہ بننا چاہتا ہے۔ ایسا ہی محمد حسین بٹالوی نے عیسائیوں کا گواہ بن کر عدالت میں محض شرارت سے شور مچایا کہ یہ شخص بادشاہ بنا چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے مخالف جس قدر سلطنتیں ہیں سب کائی جائیں گی۔ چھٹی مماثلت یہ کہ جس طرح پیلاطوس نے سردار کا ہن کے بکواس پر کچھ بھی توجہ نہ کی ور سمجھ لیا کہ میس کا یہ شخص پکا دشمن ہے۔ اسی طرح کپتان ایچ ایم ڈگلس صاحب نے محمد حسین بٹالوی کے بیان پر کچھ بھی توجہ نہ کی ۔ اور اس کے اظہار میں لکھ دیا کہ یہ شخص مرزا صاحب کا پکا دشمن ہے۔ اور پھرا خیر حکم میں اس کے اظہار کا