کتاب البریہ — Page 46
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۶ کتاب البرية ذکر تک نہیں کیا اور بالکل بے ہودہ اور خود غرضی کا بیان قرار دیا۔ ساتویں مماثلت یہ ہے کہ (۲۶) جس طرح مسیح کو گرفتاری سے پہلے خبر دی گئی تھی کہ اس طرح دشمن تجھے گرفتار کر لیں گے اور تیر ے قتل کرنے کے لئے کوشش کریں گے اور آخر خدا تجھے ان کی شرارت سے بچالے گا۔ ہیں ایساہی مجھے خدا تعالیٰ نے اس مقدمہ سے پہلے خبر دے دی اور ایک بڑی جماعت جو حاضر تھی سب کو وہ الہامات سنائے گئے اور جو حاضر نہیں تھے ان میں سے اکثر احباب کی طرف خط لکھے گئے تھے۔ اور یہ لوگ سو سے کچھ زیادہ آدمی ہیں۔ بالآخر یہ بھی واضح رہے کہ یہ مقدمہ ارادہ قتل جو میرے پر دائر کیا گیا در حقیقت بناوٹی تھا۔ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے خود گواہی دی ہے کہ پہلا بیان عبدالحمید کا ان کو پوری تسلی نہیں بخشا اور دوسرے بیان پر کوئی جرح نہیں کیا۔ پھر ایک بڑی دلیل پہلے بیان کے جھوٹا ہونے پر یہ ہے کہ نور دین عیسائی اور پادری گرے صاحب نے اس بات کو تصدیق کر لیا ہے کہ عبدالحمید پہلے ان کے پاس آیا تھا اور چاہتا تھا کہ عیسائی ہو کر ان میں گزارہ کرے مگر وہ اس کو روٹی نہیں دے سکے لہذا وہ نور دین کی نشان دہی سے کلارک کے پاس پہنچا۔ اب صاف ظاہر ہے کہ اگر عبدالحمید کلارک کے قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا تو اس کو کیا ضرور تھا کہ نور دین کے پاس جاتا اور پھر پادری گرے پاس جاتا۔ اس کو تو براہ راست ڈاکٹر کلارک کے پاس جانا چاہیے تھا۔ یہ ایک ایسا امر ہے جس سے تمام مقدمہ کھلتا ہے اور قرائن بھی صاف دلالت کرتے ہیں که یه شخص گجرات میں پہلے عیسائی رہ چکا تھا اور بدچلنی سے نکالا گیا تھا لہذا اس نے مناسب سمجھا کہ اپنا پہلا نام ظاہر نہ کرے تا عیسائی لوگ پاس رکھنے میں عذر نہ کریں۔ اسی بات کا اس نے اپنے دوسرے اظہار میں اقرار بھی کیا ہے۔ افسوس کہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر اور کپتان صاحب پولیس نے تو دراصل ابتدا سے ہی اپنی فراست سے سمجھ لیا تھا کہ یہ مقدمہ نوٹ ۔ مسیح نے جو اپنے تئیں یونس سے مثال دی یہ اسی کی طرف اشارہ تھا کہ وہ قبر میں زندہ داخل ہوگا اور زندہ رہے گا کیونکہ مسیح نے خدا سے الہام پایا تھا کہ وہ صلیب کی موت سے ہر گز نہیں مرے گا۔ منہ