کتاب البریہ — Page 44
روحانی خزائن جلد ۱۳ هم م كتاب البرية یہ فتنہ ایک جھوٹے اور مصنوعی مقدمہ کا جو میرے پر بر پا کیا گیا خدا تعالیٰ نے کئی مہینے پہلے اس کی اطلاع مجھے دی تھی اور نہ ایک دفعہ بلکہ ۲۹ / جولائی ۱۸۹۷ء تک متواتر الہامات اس بارے میں کئے گئے کہ ایک ابتلا اور مقدمہ اور باز پرس حکام کی طرف سے ہوگی اور ایک الزام لگایا جائے گا۔ اور آخر خدا اس جھوٹے الزام سے بری کرے گا۔ اور پھر حاضری کے بعد ۲۲ اگست ۱۸۹۷ء تک اطمینان اور تسلی دہی کے الہام ہوتے رہے یہاں تک کہ ۲۳ اگست ۱۸۹۷ء کو خدا تعالیٰ نے بری کر دیا۔ یہ تمام الہامات قریباً اپنی جماعت کے سنو آدمیوں کو قبل از وقت سنائے گئے تھے جن میں اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب اور اخویم مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی اور اخویم شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی ۔ اور اخویم خواجہ کمال الدین صاحب بی اے اور اخویم میاں محمد علی صاحب ایم اے اور اخویم حکیم فضل الدین صاحب اور اخویم سید حامد شاہ صاحب اور اخویم خلیفہ نور دین صاحب جموں اور اخویم مرزا خدا بخش صاحب وغیرہ احباب داخل ہیں اور ہر ایک حلفاً بیان کر سکتا ہے کہ یہ الہامات پیشگوئی کے طور پر ان کو سنائے گئے تھے۔ پس اس مقدمہ کا ہماری جماعت کو یہ فائدہ پہنچا کہ اس سے طفیل انہوں نے کئی نشان دیکھ لئے ۔ ایک تو یہی نشان که خدا تعالیٰ نے قبل از مقدمه مقدمہ کی خبر اور نیز انجام کار بری ہونے کی خبر دی۔ اور دوسرا یہ نشان کہ جو پہلے چھپے ہوئے الہام میں یہ فقرہ تھا کہ اِنّى مُهين من اراد اهانتک اس کی تصدیق دیکھ لی۔ اور تیسرا یہ نشان که مخالفوں نے تو مجھ پر الزام لگانا چاہا تھا پر خدا تعالیٰ نے حکام کی نظر میں انہیں کو ملزم کر دیا۔ اور چوتھا یہ نشان کہ محمد حسین نے مجھے ذلت کی حالت میں دیکھنا چاہا تھا خدا تعالیٰ نے یہ ذلت اسی پر ڈال دی اور اس کے شر سے مجھے بچالیا۔ یہ خدا کی تائید ہے چاہیے کہ ہماری جماعت اس کو یادر کھے۔ اور ایک بڑی الہی حکمت اس مقدمہ کے دائر ہونے میں یہ تھی کہ تا خدا تعالیٰ اس ۲۵ طور سے بھی میری مماثلت حضرت مسیح سے ثابت کرے اور میری سوانح کی اس کی سوانح