کتاب البریہ — Page xxxiii
19 مولوی محمد حسین صاحب شہادت کے بعد کمرۂ عدالت سے باہر نکلے تو برآمدہ میں ایک آرام کرسی پڑی تھی۔اُس پر بیٹھ گئے۔کنسٹبل نے وہاں سے انہیں اُٹھا دیا کہ ’’کپتان صاحب پولیس کا حکم نہیں ہے‘‘ پھر مولوی صاحب موصوف ایک بچھے ہوئے کپڑے پر جا بیٹھے۔جن کا کپڑا تھا انہوں نے یہ کہہ کر کپڑا کھینچ لیا کہ مسلمان ہو کر سرغنہ کہلا کر اور پھر اس طرح صریح جھوٹ بولنا۔بس ہمارے کپڑے کو ناپاک نہ کیجئے۔‘‘ تب مولوی نور الدینؓ صاحب نے اُٹھ کر مولوی محمدحسین صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ آپ یہاں ہمارے پاس بیٹھ جائیں۔ہر ایک چیز کی حد ہونی چاہئے۔‘‘ الغرض اس مقدمہ سے اﷲ تعالیٰ کے نشانات آفتاب نیمروز کی مانند چمکے۔اس سے ایک تو حسب پیشگوئی پادریوں کے مکر اور ساز ش کو اﷲ تعالیٰ نے بے نقاب کر دیا۔دوسرے آتھم سے مطالبہ حلف بوعدہ چار ہزار روپیہ انعام کے جواب میں پادریوں اور آتھم کی طرف سے جو یہ عذر پیش کیا گیا تھا کہ اُن کے مذہب میں قسم کھانا حرام ہے اور بقول ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک ایسا ہی حرام ہے جیسا کہ مسلمانوں کے نزدیک سؤر کا گوشت کھانا حرام ہے۔باطل ثابت ہو گیا۔اور ان جلال اور جوش تھا۔میں نے یہ سن کر کہا کہ پھر میری وکالت سے کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا۔اس پر انہوں نے کہا۔’’میں نے کبھی وہم بھی نہیں کیا کہ آپ کی وکالت سے فائدہ ہو گا یا کسی اور شخص کی کوشش سے فائدہ ہو گا۔اور نہ میں سمجھتا ہوں کہ کسی کی مخالفت مجھے تباہ کر سکتی ہے۔میرا بھروسہ تو خدا پر ہے جو میرے دل کو دیکھتا ہے۔آپ کو وکیل اس لئے کیا ہے کہ رعایت اسباب ادب کا طریق ہے اور میں چونکہ جانتا ہوں کہ آپ اپنے کام میں دیانتدار ہیں اس لئے آپ کو مقرر کیا ہے۔‘‘ مولوی فضل الدین صاحب کہتے تھے کہ میں نے پھر کہا کہ میں تو یہی بیان تجویز کرتا ہوں۔مرزا صاحب نے کہا کہ ’’نہیں جو بیان میں خود لکھتا ہوں نتیجہ اورا نجام سے بے پروا ہو کر وہی داخل کرو۔اس میں ایک لفظ بھی تبدیل نہ کیا جاوے۔اور میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ آپ کے قانونی بیان سے وہ زیادہ موثر ہوگا۔اور جس نتیجہ کا آپ کو خوف ہے وہ ظاہر نہیں ہوگا بلکہ انجام انشاء اللہ بخیر ہوگا۔اور اگر فرض کر لیا جاوے کہ دنیا کی نظر میں انجام اچھا نہ ہو یعنی مجھے سزا ہو جاوے تو مجھے اس کی پروا نہیں کیونکہ میں اس وقت اس لئے خوش ہوں گا کہ میں نے اپنے رب کی نافرمانی نہیں کی۔‘‘ (الحکم ۱۴؍نومبر ۱۹۳۴ء)