کتاب البریہ — Page xxxii
18 ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے ہم سفر تھے؟ اور آپ کا ٹکٹ بھی ڈاکٹر صاحب نے خرید کیا تھا؟ تو مولوی محمد حسین صاحب صاف منکر ہو گئے۔بعض وقت انسان اپنے خیالات کا اظہار بلند آواز سے کر گزرتا ہے۔یہی حال اس وقت میرا بھی ہوا۔میرے مُنہ سے بے ساختہ نکلا کہ ’’یہ تو بالکل جھوٹ ہے‘‘ تب ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب سے ڈپٹی کمشنر صاحب نے پھر پوچھا تو انہوں نے اقرار کیا کہ ’’مولوی صاحب میرے ہم سفر تھے اور ان کا ٹکٹ بھی مَیں نے ہی خریدا تھا۔‘‘ ۱ اِس پر ڈپٹی کمشنر حیران ہو گئے۔آخر انہوں نے یہ نوٹ مولوی محمد حسین صاحب کی شہادت کے آخر پر لکھا کہ’’گواہ کو مرزا صاحب سے عداوت ہے جس کی وجہ سے اُس نے مرزا صاحب کے خلاف بیان دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔اس لئے مزید شہادت لینے کی ضرورت نہیں۔‘‘ ۱ مولوی محمدحسین بٹالوی کی صریح کذب بیانیوں کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صدق شعاری ملاحظہ ہو۔آپ کے وکیل مولوی فضل الدین صاحب نے جو غیراحمدی تھے بیان کیا کہ بڑے بڑے نیک نفس آدمی جن کے متعلق کبھی وہم بھی نہیں آسکتا کہ وہ کسی قسم کی نمائش یا ریاکاری سے کام لیں گے انہوں نے مقدمات کے سلسلہ میں اگر قانونی مشورہ کے ماتحت اپنے بیان کو تبدیل کرنے کی ضرورت سمجھی تو بلاتامل بدل دیا۔لیکن میں نے اپنی عمر میں مرزا صاحب کو ہی دیکھا ہے جنہوں نے سچ کے مقام سے قدم نہیں ہٹایا۔میں ان کے ایک مقدمہ میں وکیل تھا۔اس مقدمہ میں میں نے ان کے لئے ایک قانونی بیان تجویز کیا اور ان کی خدمت میں پیش کیا۔انہوں نے اسے پڑھ کر کہا کہ اس میں تو جھوٹ ہے۔میں نے کہا کہ ’’ملزم کا بیان حلفی نہیں ہوتا اور قانوناً اسے اجازت ہے کہ جو چاہے بیان کرے‘‘ اس پر آپ نے فرمایا ’’قانون نے تو اسے اجازت دے دی ہے کہ جو چاہے بیان کرے مگر خدا تعالیٰ نے تو اجازت نہیں دی کہ وہ جھوٹ بھی بولے اور نہ قانون ہی کا یہ منشاء ہے۔پس میں کبھی ایسے بیان کے لئے آمادہ نہیں ہوں جس میں واقعات کا خلاف ہو۔میں صحیح صحیح امر پیش کروں گا۔‘‘ مولوی صاحب کہتے تھے کہ میں نے کہا ’’آپ جان بوجھ کر اپنے آپ کو بلا میں ڈالتے ہیں‘‘ انہوں نے فرمایا ’’جان بوجھ کر بلا میں ڈالنا یہ ہے کہ میں قانونی بیان دے کر ناجائز فائدہ اٹھانے کے لئے اپنے خدا کو ناراض کر لوں۔یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا خواہ کچھ بھی ہو‘‘ مولوی فضل الدین صاحب کہتے تھے کہ یہ باتیں مرزا صاحب نے ایسے جوش سے بیان کیں کہ ان کے چہرہ پر ایک خاص قسم کا