کتاب البریہ — Page xxxiv
20 پادریوں نے خود اپنی طرف سے عدالت میں مقدمہ لے جا کر قسمیں کھا کر بیانات دیئے۔جس سے ظاہر ہو گیا کہ آتھم کا مطالبۂ حلف کے جواب میں اس بناء پر قسم کھانے سے انکار کرنا کہ اُن کے مذہب میں قسم کھانا جائز نہیں اخفاء حق کے لئے محض ایک بہانہ تھا۔تیسرے پادریوں نے عمداً قدم قدم پر اس مقدمہ میں جھوٹ بولا۔اور عبدالحمید کو ورغلا کر اور ڈرا دھمکا کر اُس سے جھوٹے بیانات دلوائے جس سے ثابت ہو گیا کہ واقعی پادریوں کا گروہ ہی وہ دجّالی گروہ ہے جس کے متعلق آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی۔چوتھے اس مقدمہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کئی وجوہ سے مماثلت ثابت ہو کر آپ کی صداقت ظاہر ہوئی۔اِن مماثلتوں میں سے سات کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کتاب کے صفحہ ۴۵، ۴۶ میں کیا ہے۔اور بعض کا ذکر آپ نے اپنی کتاب کشتی نوح میں بیان فرمایا ہے۔پانچویں اس مقدمہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی کی ذلّت سے متعلق اﷲ تعالیٰ کا الہام انّی مھین من اراد اھانتککہ میں اُسے ذلیل کروں گا جو تیری ذلّت کا خواہاں ہے نہایت صفائی سے پورا ہوا۔دیکھئے۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ ۳۶۔۳۷۔پیلا طوس ثانی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کیپٹن ڈگلس (جو بعد میں کرنل ہو گئے تھے) کے عدل و انصاف کا اپنی متعدد تصانیف میں تعریفی رنگ میں ذکر فرمایا ہے اور انہیں پیلا طوس کا خطاب دے کر حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے عہد کے پیلاطوس سے زیادہ بہادر اور نڈر اور زیادہ عدل و انصاف کو قائم کرنے والا قرار دیا ہے۔۱۹۳۹ ء میں میں نے یوم تبلیغ کی تقریب پر کرنل ڈگلس کو دارالتبلیغ لنڈن میں اجلاس کی صدارت کے لئے مدعو کیا تھا۔اور میں نے اپنی تقریر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ تحریریں سنائی تھیں۔اور انہوں نے مقدمہ کے واقعات سُنائے تھے۔چالیس سال سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود آپ کو واقعاتِ مقدمہ یاد تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شکل کی یاد اُن کے دماغ میں تازہ رہتی تھی۔آپ نے بتایا کہ مَیں نے ایک دفعہ مرزا صاحب کی تصویر کاغذ پر کھینچی اور پھر اس کے بعد مجھے آپ کی فوٹو دیکھنے کا اتفاق ہوا تو بالکل اپنی کھچی ہوئی تصویر کے مطابق پائی۔مزید آپ نے فرمایا کہ ڈاکٹر کلارک کی شکل میرے ذہن سے بالکل اتر