کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 630

کتاب البریہ — Page 281

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۸۱ نقل چٹھی مورخه ۱۸ اگست ۹۷ ، منجانب پادری ایچ ۔ جی ۔ گرے امرتسر بنام ڈبلیولیمار چنڈ صاحب بہادر ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور ۔ قیصرہ ہند بنام ۔ مرزا غلام احمد قادیاں بعدالت کپتان ایم ڈبلیوڈ گلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ میں ڈرتا ہوں کہ میں اس معاملہ پر کوئی روشنی نہیں ڈال سکتا۔ عبد الحمید یا جو کچھ اس کا نام ہے میرے پاس آیا تھا اور اس نے بیان کیا کہ وہ اصلی ہندو ہے اور کچھ دنوں مرزا قادیانی کا مرید رہا ہے لیکن اب وہ عیسائی ہونا چاہتا ہے۔ مجھے وہ کوئی سچا متلاشی نہ معلوم ہوا بلکہ میں نے ایک معمولی سمجھا۔ میں نے اسے کہا کہ میں اسے تعلیم دوں گا اگر وہ روزانہ یا ہفتہ میں ایک دو دفعہ میرے پاس آنا چاہے۔ پھر اس نے دریافت کیا کہ اس کا گزارہ کیسے ہوگا۔ میں نے جواب دیا کہ اس امر میں میں اسے ایک پیسہ بھی گزارہ کے لئے نہ دوں گا۔ جو کچھ میرے دل پر اس کی طرف سے خیال پیدا ہوا وہ یہ ہے کہ وہ ایک نکما اور مفتری آدمی ہے۔ جو مجھ سے روپیہ یا خوراک کا گزارہ چاہتا ہے۔ سو میں اس امر سے حیران نہ ہوا کہ وہ پھر بھی میرے پاس نہیں آیا۔ مجھے یاد نہیں کہ آیا وہ میرے پاس کوئی چھٹی لا یایا نہیں۔ لیکن نور دین نے اتفاقیہ مجھ سے ذکر کیا تھا کہ وہ نو جوان اس کے پاس بھی گیا تھا ہے ، نقل بیان نور الدین عیسائی گواه استفانه مشموله مثل عدالت فوجداری با جلاس کپتان ایم ڈبلیوڈ گلس صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور۔ واقعہ ۲۲ اگست ۱۸۹۷ء مرجوعه فیصلہ ۹ راگست ۹۷ ۲۳ / اگست ۱۷ سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک مستغیث بنام مرزا غلام احمد قادیانی استغاثہ زیر دفعہ ۰۷ اضابطہ فوجداری بیان نورالدین عیسائی گواہ استغاثه به حلف ۲۳ را گست ۱۸۹۷ء میں امرتسر میں مشن کی طرف سے واعظ ہوں اور ہال بازار میں میرا مقام صدر ہے۔ عبدالحمید میرے پاس امرتسر آیا تھا۔ اپنا پہلا نام رلیا رام بتلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اب میں مسلمان ہوں ۔ اور عبد الحمید یا عبدالمجید نام ظاہر کیا تھا۔ کہتا تھا کہ پہلے میں ہندو تھا۔ میں نے پادری گرے صاحب کے پاس اس کو پادری ایچ ۔ جی ۔ گرے اور نور دین عیسائی کا بیان صاف طور پر ظاہر کر رہا ہے کہ عبدالحمید محض اپنے گزارہ کے لئے پادریوں کے دروازہ پر گیا تھا۔ پادری صاحب کے بیان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر پادری گرے صاحب اس کو گزارہ دیتے تو وہ اسی جگہ ٹھہر جاتا ڈاکٹر کلارک کے پاس نہ جاتا۔ منہ