کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 630

کتاب البریہ — Page 280

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۸۰ ۲۳۵ شخص نے ذکر کیا تھا کہ یہ شخص عیسائی ہو گیا تھا اب یہاں آیا ہے ۔ میرے ساتھ اس کی کوئی گفتگو نہیں ہوئی تھی ۔ مجھے نہیں معلوم کس نے اس کو مزدوری وغیرہ کا کوئی کام دیا تھا۔ میں نے کوئی کام نہیں دیا تھا ۔ میں نے کوئی پیشگوئی نہ اشارتاً اور نہ کنایتاً ڈاکٹر کلارک صاحب کی بابت کی۔ میں نے سنا تھا کہ عبدالحمید اچھے چال چلن کا لڑکا نہیں ہے ۔ اس لئے میں نے گھر سے ایک رقعہ لکھ کر بھیج دیا تھا کہ اس کو نکال دینا چاہیے۔ مجھے پھر خبر نہیں کہ وہ کہاں چلا گیا۔ میں نے ایک پیسہ تک اس کو جاتے ہوئے نہیں دیا۔ نہ امرتسر بھیجا۔ جھوٹ کی بیخ کنی سے مراد ہے کہ جھوٹ ضائع ہو جاوے گا۔ ڈاکٹر کلارک صاحب کی طرف اشارہ نہیں ہے ۔ جب تک کوئی شخص رضا مندی ظاہر نہ کرے پیشگوئی نہیں کی جاتی ۔ خط مورخہ ۵ رمئی ۹۳ء تخطی عبداللہ انتم پیش کرتا ہوں جس میں وہ نشان معجزہ یا دلیل قاطع مانگتے ہیں۔ (حرف Y) حرف O میں دوبارہ روشنی ڈالنے سے مراد ہے کہ پیشگوئی کے پورا ہونے نے یقین کو زیادہ کیا۔ دستخط مرزاغلام احمد سنایا گیا سب بیان صحیح اور درست مندرج ہے درست تسلیم ہوا۔ دستخط حاکم ۲۴۵ بقيه ضميمه كتاب البريه ( ذیل کی دو شہادتیں جو بر وز فیصلہ مقدمہ شامل مثل ہوئیں وہ سہوا درج کتاب نہیں ہوئیں اب ذیل میں لکھی جاتی ہیں اس کو اخیر حکم سے پہلے شامل کتاب سمجھنا چاہیے ) تو اب بلا شبہ توریت اس کو آسمان پر چڑھنے سے روکتی ہے ورنہ توریت خود باطل ہوتی ہے ۔ یہ کیونکر مان لیا جائے کہ توریت کے لعنت کا حکم اوروں کے لئے ابدی اور یسوع کے لئے صرف تین دن تک محدود تھا۔ تو ریت میں کوئی ایسی تخصیص نہیں ۔ بلکہ اس لعنت سے ابدی لعنت مراد ہے کہ جو کبھی بھی گلے سے نہیں اترے گی ۔ اگر موسے کی کتاب توریت میں کہیں تین دن کا ذکر بھی ہے تو حضرات عیسا ئیاں ہم کو ایڈیشن اوّل میں یہ ضمیمہ کتاب کے شروع میں شامل کیا گیا ہے اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کی تعمیل میں یہاں لایا گیا ہے۔ ( ناشر ) بقیہ حاشیہ صفحہ ۲۸۳ پر ملاحظہ کریں۔ (ناشر)