کتاب البریہ — Page xxxi
17 ڈپٹی کمشنر بہادر کو دلچسپی ہوئی اور انہوں نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا اس سوال کی بابت تم کو کچھ حال معلوم ہے۔مَیں نے جواب نفی میں دیا۔مگر کہا کہ اگر آپ معلوم کرنا چاہتے ہیں تو جب آپ لنچ کے لئے اُٹھیں گے تو میں معلوم کرنے کی کوشش کروں گا۔چنانچہ جب نماز ظہر کا وقت ہوا۔تو صاحب ڈپٹی کمشنر لنچ کے لئے اُٹھ گئے تو میں نے شیخ رحمت اﷲ صاحب کی معرفت حضرت مرزا صاحب سے دریافت کروایا کہ ماجرا کیا ہے۔حضرت مرزا صاحب نے نہایت افسوس کے ساتھ شیخ رحمت اﷲ صاحب کو بتایا کہ مولوی محمد حسین صاحب کے والد کا ایک خط ہمارے قبضہ میں ہے جس میں کچھ نکاح کے حالات اور مولوی محمد حسین صاحب کی بدسلوکیوں کے قصے ہیں جو نہایت قابل اعتراض ہیں۔مگر ساتھ ہی حضرت مرزا صاحب نے فرمایا۔کہ ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ اس قصّہ کا ذکر مِسل پر لایا جاوے۔یا ڈپٹی کمشنر صاحب اس سے متاثر ہو کر کوئی رائے قائم کریں۔میں نے شیخ رحمت اﷲ صاحب سے سُن کر لنچ والے کمرہ میں جا کر ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے روبرو جو ڈپٹی کمشنر کے ساتھ لنچ میں شامل تھے ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر کو یہ ماجرا سنا دیا۔اِس پر خود ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بہت ہنسے۔صاحب ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ یہ امر تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم اس ماجرے کو قلمبند نہ کریں مگر یہ بات ہمارے اختیار سے باہر ہے کہ ہمارے دل پر اثر نہ ہو۔لنچ کے بعد جب مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب دوبارہ جرح کے لئے عدالت میں پیش ہوئے تو مولوی فضل الدین صاحب وکیل نے اُن سے سوال کیا کہ آپ آج ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب کی کوٹھی پر اُن کے پاس بیٹھے ہوئے تھے؟ تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔جس پر بے ساختہ مَیں چونک پڑا۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے مجھ سے اِس چونکنے کی وجہ پوچھی تو مَیں نے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب کی طرف اشارہ کیا۔صاحب بہادر نے ڈاکٹر کلارک سے دریافت کیا۔تو انہوں نے صاف اقرار کیا کہ ’’ہاں میرے پاس بیٹھے ہوئے اس مقدمہ کی گفتگو کر رہے تھے۔‘‘ پھر مولوی فضل الدین صاحب وکیل نے پوچھا کہ ’’آپ اِن دنوں امرتسر سے بٹالہ تک