کتاب البریہ — Page xxx
16 اِن کے بعد شیخ رحمت اﷲ صاحب کی شہادت ہوئی۔۔۔اور اُن کے بعد مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی شہادت کے لئے کمرۂ عدالت میں داخل ہوئے اور دائیں بائیں دیکھا تو کوئی کرسی فالتو پڑی ہوئی نظر نہ آئی۔مولوی صاحب کے منہ سے پہلا لفظ جو نکلا وہ یہ تھا کہ ’’حضور کرسی‘‘ ڈپٹی کمشنر صاحب نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ ’’کیا مولوی صاحب کو حکّام کے سامنے کرسی ملتی ہے؟‘‘ مَیں نے کُرسی نشینوں کی فہرست صاحب کے سامنے پیش کر دی اور کہا کہ اِس میں مولوی محمد حسین صاحب یا اُن کے والد بزرگوار کا نام تو درج نہیں لیکن جب کبھی حکّام سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے تو بوجہ عالم دین یا ایک جماعت کے لیڈر ہونے کے وہ انہیں کرسی دے دیا کرتے ہیں۔اس پر صاحب ڈپٹی کمشنر نے مولوی صاحب کو کہا کہ ’’آپ کوئی سرکاری طور پر کرسی نشین نہیں ہیں۔آپ سیدھے کھڑے ہو جائیں اور شہادت دیں۔‘‘ تب مولوی صاحب نے کہا کہ ’’میں جب کبھی لاٹ صاحب کے حضور میں جاتا ہوں تو مجھے کُرسی پر بٹھایا جاتا ہے۔میں اہل حدیث کا سرغنہ ہوں۔‘‘ تب صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے گرم الفاظ میں ڈانٹا اور کہا ’’نج کے طور پر اگر لاٹ صاحب نے تم کو کرسی پر بٹھایا تو اِس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ عدالت میں بھی تمہیں کرسی دی جائے۔‘‘ خیر شہادت شروع ہوئی تو مولوی صاحب نے جس قدر الزامات کسی شخص کی نسبت لگائے جا سکتے ہیں مرزا صاحب پر لگائے۔لیکن جب مولوی فضل الدین صاحب وکیل حضرت مرزا صاحب نے جرح میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے معافی مانگ کر اس قسم کا سوال کیا جس سے اُن کی شرافت یا کیریکٹر پر دھبّہ لگتا تھا تو سب حاضرین نے متعجبانہ طور پر دیکھا کہ مرزا صاحب اپنی کرسی سے اٹھے اور مولوی فضل الدین صاحب کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور فرمایا کہ ’’میری طرف سے اس قسم کا سوال کرنے کی نہ تو ہدایت ہے اور نہ اجازت ہے۔آپ اپنی ذمہ داری پر بہ اجازت عدالت اگر پوچھنا چاہیں تو آپ کو اختیار ہے۔‘‘ قدرتی طور پر صاحب