کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxix of 630

کتاب البریہ — Page xxix

15 ’’دیکھو آج مقدمہ میں مولوی محمد حسین صاحب کی شہادت ہے اور آج بھی یہ شخص ڈاکٹر کلارک کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔‘‘ ’’اِس کے علاوہ احاطہ بنگلہ میں عبدالحمید جس کی بابت بیان کیا گیا تھا کہ مارٹن کلارک کے قتل کرنے کے لئے مرزا صاحب نے اُسے تعینات کیا تھا ایک چارپائی پر بیٹھا ہوا تھا۔رام بھجدت وکیل آریہ اور پولیس کے چند آدمی اس کے گرد بیٹھے تھے۔اور یہ بھی دیکھا گیا کہ عبدالحمید کے ہاتھوں پر کچھ نشان کئے جا رہے ہیں۔چنانچہ وکیل مرز اصاحب نے ان ہر دو واقعات کو نوٹ کر لیا۔اور جب مقدمہ پیش ہوا تو اوّل عبدالحمید سے وکیل حضرت مرزا صاحب نے سوال کیا کہ کیا وہ احاطہ کوٹھی مارٹن کلارک میں بیٹھا ہوا تھا اور رام بھجدت وکیل اور پولیس والے اُس کے پاس تھے اور کیا اس کو مرزا صاحب کے برخلاف جو بیان دینا تھا اُس کے لئے کچھ باتیں تلقین کر رہے تھے اور کچھ نشان اس کے ہاتھوں پر کر رہے تھے۔اُس وقت عبدالحمید سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔اُس نے رام بھجدت وغیرہ کی موجودگی کو تسلیم کیا اور جب اس کے ہاتھ دیکھے گئے تو بہت سے نشانات نیلے اور سُرخ پنسل کے پائے گئے جو خدا جانے کن کن امور کے لئے اس کے ہاتھ پر بطور یادداشت بنائے گئے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شہادت سے قبل مولانا نور الدینؓ صاحب کی شہادت ہوئی۔اُن کی سادہ ہیئت یعنی ڈھیلی ڈھالی سی بندھی ہوئی پگڑی اور کُرتے کا گریبان کھلا ہوا اور شہادت ادا کرنے کا طریق نہایت صاف اور سیدھا سادھا ایسا مؤثر تھا کہ خود صاحب ڈپٹی کمشنر بہت متاثر ہوئے اور کہا کہ ’’خدا کی قسم اگر یہ شخص کہے کہ مَیں مسیح موعود ہوں تو میں پہلا شخص ہوں گا جو اس پر پوراپورا غور کرنے کے لئے تیا ر ہوں گا۔‘‘ مولوی نور الدینؓ صاحب نے عدالت سے دریافت کیا کہ ’’مجھے باہر جانے کی اجازت ہے یا اسی جگہ کمرہ کے اندر رہوں۔‘‘ ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ’’مولوی صاحب آپ کو اجازت ہے جہاں آپ کا جی چاہے جائیں‘‘