کتاب البریہ — Page xxviii
14 صاحب بٹالوی بھی ڈاکٹر صاحب موصوف کے ہم سفر ہیں بلکہ اُن کا ٹکٹ بھی ڈاکٹر صاحب نے خریدا ہے پھر ڈاکٹر صاحب موصوف نے بوجہ دیرینہ ملاقات کے مجھ سے دریافت فرمایا کہ آپ تو ضلع سیالکوٹ میں سررشتہ دار تھے اب کہاں ہیں۔میں نے اُن کو جواب دیا کہ میں ضلع گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر کا ریڈر ہوں۔تب انہوں نے فرمایا کہ ’’اوہو تب تو شیطان کا سر کچلنے کے لئے آپ بہت کارآمد ہوں گے۔‘‘چونکہ میں تینوں صاحبان سے واقف تھا اس لئے فوراً سمجھ گیا کہ ڈاکٹر صاحب کا اشارہ کس طرف ہے۔میں نے سرسری طور پر جواب دیا کہ ’’واقعی ہر ایک انسان کا کام ہے کہ وہ شیطان کا سر کچلے۔مگر مجھے معلوم نہیں کہ آپ کا یہ کہنے سے مطلب کیا ہے؟‘‘ تب ڈاکٹر صاحب موصوف نے مرزا صاحب کا نام لے کر کہاکہ وہ ’’بڑا بھاری شیطان ہے جس کاسر کچلنے کے لئے ہم اور یہ مولوی صاحب درپے ہیں۔آپ اقرار کریں کہ آپ ہمیں مدد دیں گے۔‘‘ چونکہ مَیں اس گفتگو کو طول دینا پسند نہیں کرتا تھا مَیں نے صرف اتنا کہہ دیا کہ ’’مجھے معلوم ہے کہ آپ کا اور مرزا صاحب قادیانی کا مقابلہ ہے اور مقدمہ عدالت میں دائر ہے اِس لئے میں اس بات سے معافی چاہتا ہوں کہ اِس معاملہ میں زیادہ گفتگو کروں جو شیطان ہے اُس کا سر خود بخود کچلا جائے گا۔‘‘ یاد نہیں پڑتا کہ اِس کے بعد اور کوئی گفتگو ہوئی یا نہیں۔مَیں بٹالہ اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہو گیا کیونکہ ڈپٹی کمشنر صاحب وہیں مقیم تھے دوسرے دن جب صبح سیر کے لئے نکلے مرزا صاحب کے بہت سے متعلقین سے انار کلی (جو بٹالہ میں عیسائیوں کے گرجے اور مشن کے مکان کا نام ہے۔مؤلف) کی سڑک پر مجھ سے ملاقات ہوئی۔ڈاکٹر کلارک صاحب جس کوٹھی میں ٹھہرے ہوئے تھے وہ سامنے تھی۔ہم نے دیکھا کہ مولوی محمد حسین صاحب دروازہ کے سامنے ڈاکٹر کلارک کے پاس ایک میز پر بیٹھے ہوئے تھے۔مولوی فضل دین صاحب وکیل مرزا صاحب نے تعجب کے لہجہ میں کہا کہ