کتاب البریہ — Page 243
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۴۳ کتاب البرية عرض کی انہوں نے کہا کہ ہم اس قدر جلدی بیعت نہیں کرتے اور نہ ایسی بیعت کو ہم پسند (۲۰۹) کرتے ہیں کہ بیعت کر نیوالے کا حال اچھی طرح معلوم نہ ہووے۔ عبدالحمید دو چار روز رہ کر چلا گیا۔ یاد نہیں کہ کب آیا تھا۔ پھر معلوم نہیں کہ کس عرصہ کے بعد دوبارہ آیا تھا مگر زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا۔ دوسری دفعہ کی بابت یاد نہیں کہ کتنے روز رہا تھا۔ مرزا صاحب عبدالحمید سے نہ بختی اور نہ پیار کرتے تھے۔ ایک دفعہ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ اجنبی لوگوں کو زیادہ مت رہنے دیا کرو تا وقتیکہ شرافت کا حال معلوم نہ ہو ۔ بنگال میں معلوم نہیں کہ کوئی مرید مرزا صاحب کا ہے یا نہ۔ حیدر آباد میں دو مرید ہیں۔ بمبئی میں ایک شخص ۔ کرانچی میں کوئی نہیں۔ کابل میں کوئی نہیں لکھنو میں کوئی نہیں۔ دہلی میں ایک ہے۔ پنجاب میں مرید ہیں تعداد یاد نہیں۔ مرزا صاحب کتابیں تصنیف کرتے ہیں ۔ بعض ان کے مرید مفت کتابیں لے جاتے ہیں اور بعض قیمت دے جاتے ہیں اور نذر بھی دیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں معنے ہیں جو خود دجل کے لفظ سے ہی معلوم ہو رہے ہیں یعنی یہ کہ جو فروش گندم نما کے طور پر دھوکہ دہی کے پیشہ کو کمال کی حد تک پہنچانا یہی معنے پیشگوئی میں مقصود ہیں جو کوئی معقول پسند ان کے ماننے میں تامل نہیں کر سکتا اور اسی دجالیت کے لحاظ سے حدیثوں میں دو قسم کے ۲۰۹ صفات دجال معہود کے بیان فرمائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ نبوت کا دعوی کرے گا اور دوسرے یہ کہ وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ ان دونوں باتوں کو اگر حقیقت پر حمل کیا جائے تو کسی طرح تطبیق ممکن نہیں کیونکہ نبوت کا دعوی اس بات کو مستلزم ہے کہ شخص مدعی خدا تعالیٰ کا قائل ہو ۔ اور خدائی کا دعوی اس بات کو چاہتا ہے کہ شخص مدعی آپ ہی خدا بن بیٹھے اور کسی دوسرے خدا کا قائل نہ ہو ۔ پس یہ دونوں دعوے ایک شخص سے کیونکر ہو سکتے ہیں ۔ پس اصل بات یہ ہے کہ دجال ایک شخص کا نام نہیں ہے۔ لغت عرب کے