کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 630

کتاب البریہ — Page 244

روحانی ختنه ائن جلد ۱۳ ۲۴۴ که مرزا صاحب منه روپیہ تک انعام دے سکتے ہیں۔ یوسف خان جب تک قادیاں میں رہا ہم سے الگ رہا مگر اس کی خرابی کوئی نہیں دیکھی ۔ مرزا صاحب نے عبدالحمید کو کرایہ نہیں ۲۰ دیا تھا حکم دیا تھا۔ کہ نکال دو نکھے آدمیوں کو وہ نہیں رہنے دیتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے اور یاد ہے میں نے ۲ / اس کو دیئے تھے۔ مرزا صاحب نے اس کو کچھ نہیں دیا تھا۔ عبد الحمید کو چھاپہ خانہ میں کام کرتے میں نے خود نہیں دیکھا۔ سنا تھا کہ کام کرتا تھا۔ گالیوں کی بابت سنا تھا کہ مرزا صاحب کو گالیاں اس نے دی ہیں۔ میرے رو بروئے گالیاں مرزا صاحب کو اس نے نہیں دی تھیں ۔ جو بلی کے دن عبد الحمید کی بابت نہیں کہہ سکتا کہ وہاں تھا یا نہیں۔ جو بلی پر برہان الدین آیا تھا اس نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ لڑکا اچھا نہیں ہے تم اس سے خطا کھاؤ گے۔ یعنی تم کو تکلیف دے گا۔ خبر نہیں کس نے عبد الحمید کو کہا تھا کہ چلے جاؤ۔ میں نے نہیں کہا تھا۔ بسوال وکیل ملزم ۔ جب پہلی دفعہ عبدالحمید قادیاں آیا رو سے دجال اُس گروہ کو کہتے ہیں جو اپنے تئیں امین اور متدین ظاہر کرے مگر دراصل نہ امین ہو اور ۲۱۰ نہ متدین ہو بلکہ اس کی ہر ایک بات میں دھوکہ دہی اور فریب دہی ہو۔ سو یہ صفت عیسائیوں کے اس گروہ میں ہے جو پادری کہلاتے ہیں۔ اور وہ گروہ جو طرح طرح کی کلوں اور صنعتوں اور خدائی کاموں کو اپنے ہاتھ میں لینے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں جو یورپ کے فلاسفر ہیں وہ اس وجہ سے دجال ہیں کہ خدا کے بندوں کو اپنے کاموں سے اور نیز اپنے بلند دعووں سے اس دھو کہ میں ڈالتے ہیں کہ گویا کارخانہ خدائی میں ان کو دخل ہے۔ اور پادریوں کا گروہ اس وجہ سے نبوت کا دعوی کر رہا ہے کہ وہ لوگ اصل آسمانی انجیل کو گم کر کے محترف اور مغشوش مضمون بنام نہاد ترجمہ انجیل کے دنیا میں پھیلاتے ہیں۔ اور اگر اس اصل انجیل کا مطالبہ کیا جائے جو حضرت عیسیٰ کی تین برس کی الہامی کلام تھی جس کی نسبت وہ بیان کرتے ہیں کہ میں کچھ نہیں کہتا مگر وہی جو خدا نے مجھ کو کہا ۔ تو اس کا کچھ بھی پتہ نہیں بتلا سکتے کہ وہ کتاب کہاں غائب ہوگئی۔ اور یہ ترجمے جو پیش کرتے ہیں تو