کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 630

کتاب البریہ — Page 242

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۴۲ (۲۰۸) نقل بیان گواه استغاثه بصیغه فوجداری اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو کلس صاحب بہادر مجسٹریٹ ضلع گورداسپور سر کار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب جرم ۰۷ اضابطہ فوج داری بنام مرزا غلام احمد قادیانی بیان مولوی نورالدین گواه استغاثه با قرار صالح ۱۳ اگست ۹۷ ولد غلام رسول ساکن بھیرہ ضلع شاہ پور قوم قریشی عمرض سال۔ بیان کیا۔ دستخط حالم مہر عدالت 15/8/97 میں مرزا صاحب کا مرید ہوں۔ بہت عرصہ سالہا سال سے۔ مجھے بھی دائیں ہاتھ کے فرشتے کا لقب نہیں ملا۔ اور نہ خلیفہ کا لقب ملا ہے۔ مجھے سب سے بزرگ نہیں کہا جاتا۔ عبدالحمید ہماری برادری سے نہیں ہے۔ ہم قریشی ہیں اور عبدالحمید گھڑ ہے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مجھے کوئی خط عبدالحمید کا بیرنگ نہیں آیا۔ میں تین قسم کا خط بیرنگ لیتا ہوں۔ گھر سے آئے ہوئے یا اگر کوئی ٹکٹ لگا کر بھیجے اور بیرنگ اتفاقیہ ہو جائے تو میں اس کا محصول دے دیتا ہوں یا کتابوں کی بلٹیوں والے خط بیرنگ لیتا ہوں باقی میں بیرنگ خط واپس کرتا ہوں۔ عبدالحمید سے میں واقف ہوں دو دفعہ قادیاں میں آیا تھا اور مجھ سے کہا تھا کہ مرزا صاحب کی بیعت کرا دو۔ میں نے مرزا صاحب سے سو یہ تمام گناہ ہمارے علماء کی گردن پر ہے کہ دجال کو خدائی کا پورا جامہ پہنا کر اور مسیح کو ایسی طرز پر آسمان سے اتار کر جس کی نظیر تمام سلسلہ معجزات اور قانون قدرت میں پائی نہیں جاتی محققوں کو نہایت تو حش اور حیرانی میں ڈال دیا۔ آخر وہ بے چارے ان دونوں پیشگوئیوں سے منکر ہو گئے۔ حالانکہ یہ دونوں پیشنگوئیاں اسلامی تواریخ اور احادیث اور آثار صحابہ میں اس درجہ تو اتر پر ہیں کہ یہ تو اتر کسی دوسری پیشگوئی میں پایا نہیں جاتا اور کوئی عقلمند اخبار متواترہ سے انکار نہیں کر سکتا۔ پس اگر یہ نافہم علماء ان پیشگوئیوں کے سیدھے اور صحیح معنے کرتے تو یہ فرقہ لائق رحم اس بلاء انکار میں نہ پڑتا ۔ اور ان عقلمندوں پر ہرگز امید نہ تھی کہ اگر وہ سید ھے اور صاف اور قریب قیاس معنے پاتے تو اس اعلیٰ درجہ کی پیشگوئی کو جس پر اسلام کے تمام فرقوں کا اتفاق ہے بلکہ نصاری کی انجیل بھی اس پر گواہ ہے رو کر دیتے ۔ کیونکہ دجال کے یہ سیدھے ۲۰۸