کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 630

کتاب البریہ — Page 241

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۴۱ تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے چٹھی میں لکھا تھا کہ اس عزیز کو دین عیسائی سکھلا ؤ اور کام لو۔ ٹوکری اٹھا (۲۰۷) سکتا ہے نازک اندام نہیں ہے۔ ۳۱ / جولائی ۹۷ ء تک جب تک اقبال لکھا گیا عبدالحمید نے نہیں کہا تھا کہ وہ ڈاکٹر کلارک کو مارنے آیا ہے۔ بیاس میں ایک نیا کمرہ ڈاکٹر صاحب کا بنتا ہے وہاں عبدالحمید نے رو بروئے یوسف خان اور میرے مولوی نور الدین کو خط لکھا تھا۔ میرے دل میں ۳۱ ر جولائی ۹۷ تک کوئی شک عبدالحمید کی نسبت نہیں ہوا تھا۔ بلکہ دو آدمیوں نے اس کی بابت کہا تھا کہ یہ ہندوؤں کا لڑکا ہے اور مجھ کو اس سے ہمدردی ہے۔ ایک روز دوسانپ پکڑے گئے تھے۔ پریم داس بقلم خود سنایا گیا درست ہے۔ (دستخط حاکم) ہے تو پھر ایسا شخص کہ جو درحقیقت خدائی کی قدرتیں دکھلائے گا اس کے پرستاروں کا کہاں تک شمار پہنچے گا اور ایسے لوگوں کو کیوں معذور نہ سمجھا جائے جنہوں نے اس کی پوری خدائی دیکھ لی (۲۰۷) ہوگی۔ دیکھو مسیح ابن مریم دنیا میں آکر ایک چوہا بھی پیدا نہ کر سکا تب بھی چالیس کروڑ کے قریب مخلوق پرست لوگ اس کی پوجا کر رہے ہیں۔ پھر ایسا شخص جس کے ہاتھ میں خدا کی قدرت کا تمام نظام ہوگا وہ کس قدر دنیا میں فتنہ ڈال سکتا ہے اور خدائے کریم و رحیم کی سنت اور عادت سے بالکل بعید ہے کہ ایسے ایمان سوز فتنہ میں لوگوں کو مبتلا کرے ۔ اس سے تو نعوذ باللہ قرآن شریف کی ساری توحید خاک میں ملتی ہے اور تمام فرقانی تعلیم درہم برہم ہو جاتی ہے۔ پھر کیونکر ایسا د جبال اہل عقل اور بصیرت کو سمجھ آ سکتا۔ اسی طرح مسیح ابن مریم کا بر خلاف نصوص صریحہ کتاب اللہ کے صدہا برس آسمان پر زندگی بسر کر کے اور پھر ملائک کے گروہ میں ایک مجمع عظیم میں نازل ہونا اور سانس سے تمام کافروں کو مارنا اور یہ نظارہ دنیا کے لوگوں کو دکھائی دینا جو ایمان بالغیب کے بھی منافی ہے در حقیقت ایسا ہی امر تھا جو نیچر اور قانون قدرت کے ماننے والے اس سے انکار کرتے ۔ کیونکہ اس قسم کے معجزات کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں اور قرآن اس کا مکذب ہے جیسا کہ آیت قُل سُبْحَانَ رَبِّی سے ظاہر ہے۔ ا بنی اسرآئیل: ۹۴