کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 182 of 630

کتاب البریہ — Page 182

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۸۲ ہمارے پاس ہے اور ہم پیش کریں گے۔ پھر ہم نے اس نوجوان لڑکے کے حالات کی بابت دریافت کرنا شروع کیا۔ ایک آدمی بٹالہ میں دریافت کے واسطے بھیجا گیا اس آدمی کا نام مولوی عبدالرحیم ہے۔ اس نے بٹالہ کے متعلق حالات عبدالحمید کے محض جھوٹے پائے ۔ ذرہ بھر بھی اس میں بیچ نہ تھا۔ تب مولوی عبدالرحیم سیدھا قادیاں میں مرزا صاحب کے پاس پہنچا اور مکان پر پہنچ کر اس نے دریافت کیا کہ آیا کوئی شخص عبدالمجید نام یہاں پر ہے۔ ایک لڑکا وہاں تھا۔ اس نے کہا کہ ہاں تھا مگر مرزا صاحب کو گالیاں دے کر چلا گیا ہے۔ پھر مولوی عبدالرحیم مرزا صاحب کے پاس گیا اور دریافت پر کہا کہ میں عیسائی ہوں۔ اور عبدالمجید کی بابت دریافت کیا۔ مرزا صاحب نے کہا کہ وہ جھوٹا ہے۔ پیدائشی مسلمان ہے اور اس کا پیدائشی نام عبدالحمید ہے اور وہ مولوی ۱۵۱ برہان الدین جہلمی کا بھتیجا ہے۔ وہ راولپنڈی میں عیسائی ہوا تھا اور یہاں قادیان میں آکر پھر مسلمان ہو گیا تھا اور چند عرصہ محنت ٹوکری اٹھا کے کرتا رہا۔ اور قریباً سات آٹھ یوم سے یہاں سے چلا گیا ہے۔ اور یہ عرصہ اس عرصہ سے مطابق ہے جب وہ ہماری کوٹھی پر آیا تھا۔ اور آخر کار مرزا صاحب نے کہا کہ اس کی اچھی طرح خاطر مدارات کرو اور خوراک پوشاک عمدہ دو تو وہ تمہارے پاس رہے گا۔ پھر ہم نے جہلم سے دریافت کیا وہاں سے ہم کو معلوم ہوا کہ اس نو جوان آدمی کا نام ہو کر ان کے عموم و ہموم میں شریک ہو جاؤں آخر ایسا ہی ہوا۔ میرے والد صاحب اپنے بعض آباء اجداد کے دیہات کو دوبارہ لینے کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے انہوں نے ان ہی مقدمات میں مجھے بھی لگایا اور ایک زمانہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا ان بیہودہ جھگڑوں میں ضائع کیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگا دیا۔ میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا اس لئے اکثر والد صاحب کی ناراضگی کا نشانہ رہتا رہا۔ ان کی ہمدردی اور مہربانی میرے پر نہایت درجہ پر تھی مگر وہ چاہتے تھے کہ دنیا داروں کی طرح مجھے رو تخلق بنا دیں ادا