کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 630

کتاب البریہ — Page 181

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۸۱ کے حق میں بہت ہی بُرا بکتا تھا۔ دوم وہ بپتسمہ لینے کی از حد خواہش رکھتا تھا اور سوم وہ بلا وجہ اور بلاطلبی ہمارے کوٹھی پر آ کر گشت اور سیر اور ملاقات چاہتا تھا۔ اور باوجود یکہ مے سال کی عمر میں وہ محمدی ہوا تھا۔ اپنی گوت ( برہمن ) سے ناواقف تھا اور ٹانکوں سے ناواقف تھا اور مختلف اشخاص سے مختلف قسم کی اپنی نسبت کہانی بیان کی ۔ مثلاً ایک شخص سے اس نے اپنے دوست ایسر داس نام کو بجائے کر پارام کے بتلایا۔ بعد انقضائے پانچ روز ہم نے اپنے ہسپتال واقع بیاس پر اسے بھیج دیا۔ وہاں بھی میرے طالب علم پڑھتے ہیں۔ جاتے ہی اس نے ایک خط مولوی نورالدین کے نام جو میرزا صاحب کا دہنے ہاتھ کا فرشتہ ہے لکھا۔ یہ اسی (۱۵۰) شخص کی زبانی معلوم ہوا تھا کہ خط اُس نے لکھا ہے ۔ مطلب اس خط کا یہ تھا کہ میں عیسائی ہونے لگا ہوں آپ روک سکتے ہیں تو روک لیں۔ یہ مطلب بھی اُس کی زبانی ہی معلوم ہوا تھا اور دیگر شہادت بھی ہے۔ باعث خط لکھنے کا یہ تھا کہ ہم نے اس کو کہا تھا کہ یہ بہتر نہ ہو گا کہ ہم مرزا صاحب کو لکھیں کہ یہ شخص عیسائی ہونا چاہتا ہے۔ کل کو یہ نہ کہیں کہ تم ان کے چور ہو۔ اس نے کہا کہ نہیں میں خود ہی خط لکھتا ہوں ۔ اور اس نے خط لکھ کر بیرنگ ڈاک میں ڈالا ۔ اور مجھے خط کے ذریعہ سے خط لکھنے سے منع کیا تھا جب تک میرے بپتسمہ کا وقت ہو ۔ وہ خط اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیاں میں (۱۵۰) پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا۔ اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت و غیره علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔ میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہیے کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے اور نیز ان کا یہ بھی مطلب تھا کہ میں اس شغل سے الگ