کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 630

کتاب البریہ — Page 183

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۸۳ عبدالمجید نہیں ہے اور کہ اس کا والد مر گیا ہے اس کی ماں نے اس کے ایک چچا سے نکاح کر لیا ہے۔ اور دوسرا چچا اور خاندان کا بڑا ممبر مولوی برہان الدین ہے جو مولوی برہان الدین غازی کے نام سے مشہور ہے۔ وہ قوم کے لگھڑ ہیں۔ برہان الدین معہ اپنے کل خاندان کے نہایت ہی کے محمد ی ہیں۔ برہان الدین مجاہدین میں سے ہے۔ میرا مطلب ہے کہ جو مجاہدین سرحد سے باہر ہیں ان سے اس کا واسطہ تعلق رہا ہے اور وہ بڑا لا دھڑک ہے اگر چہ اب عمر رسیدہ ہے جہاں تک سنا ہے نیک معاش ضرور ہے اور نسبت سب خاندان خاص کر کے برہان الدین مرزا صاحب پر جاں نثار ہیں۔ نوجوان آدمی کی کچھ حقیت قریب اللہ بیگہ اراضی ہے اور کچھ نقدی بھی ہے جو بوقت وفات والدش اس کے چوں کے قبضہ میں آیا۔ یہ تحقیقات محمد یوسف خاں نے کی تھی جو مرزا صاحب کا مرید سابق تھا اور خود بھی مجاہدوں کی بو رکھتا تھا اور برہان الدین کا دوست قدیمی تھا۔ اس کا خط ہمارے پاس ہے جو پیش کیا جاتا ہے۔ مکرر ۔ ضرورت پیش کرنے کی نہیں ہے۔ اس نو جو ان کو کبھی بپتسمہ نہیں دیا گیا تھا اور وہ نہایت وحشیانہ اور ناشائستہ زندگی (۱۵۲) بسر کر آیا تھا۔ اور اس نے اپنے چچا کے منہ چوری کر کے شہوت پرستی میں خراب کئے تھے رات و دن وہ بدمستوں عیاشوں اور رنڈی بازیوں میں پھرتا رہتا تھا۔ پھر ہم نے اس کے عیسائی ہونے کے متلاشی ہونے کی بابت گجرات سے دریافت کیا بذات خود ہم نے دریافت کیا تھا۔ اور میری طبیعت اس طریق سے سخت بیزار تھی ۔ ایک مرتبہ ایک صاحب کمشنر نے قادیاں میں آنا چاہا میرے والد صاحب نے بار بار مجھ کو کہا کہ ان کی پیشوائی کے لئے دو تین کوس جانا (۱۵۲) چاہیے مگر میری طبیعت نے نہایت کراہت کی اور میں بیمار بھی تھا اس لئے نہ جا سکا۔ پس یہ امر بھی ان کی نارائستگی کا موجب ہوا اور وہ چاہتے تھے کہ میں دنیوی امور میں ہر دم غرق رہوں جو مجھ سے نہیں ہو سکتا تھا۔ مگر تا ہم میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے نیک نیتی سے نہ دنیا کے لئے بلکہ محض ثواب اطاعت حاصل کرنے کے لئے اپنے والد صاحب کی خدمت میں