خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 38

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۳۸ خطبه الهاميه مَدَارِج الا تُقِيَاءِ - وَبِهِ يَكْمُلُ سَائِرُ مَرَاحِلِ الصِّدِّيقِينَ پر ہیز گاران ۔ و بدیں کامل مے شوند منزلہائے راستبازاں و برگزیدگان اور سب منزلیں راستبازوں اور برگزیدوں کی ختم ہو جاتے ہیں وَالْأَصْفِيَاءِ - وَإِلَيْهِ يَنْتَهِي سَيْرُ الْأَوْلِيَاءِ - وَإِذَا و همین است کہ منتہائے سیر اولیاء است ۔ و چوں پوری ہو جاتی ہیں اور یہاں تک پہنچ کر سیر اولیاء کا اپنے انتہائی نقطہ تک جا پہنچتا ہے اور جب بَلَغْتَ إِلى هَذَا فَقَدْ بَلَّغْتَ جُهْدَكَ إِلَى الْانْتِهَاءِ تا این مقام برسیدی پس کوشش خود را بدرجہ انتہا رسانیدی تو اس مقام تک پہنچ گیا تو تو نے اپنی کوشش کو انتہا تک پہنچا دیا وَفُرْتَ بِمَرْتَبَةِ الْفَنَاءِ - فَحِيْنَئِذٍ تَبْلُغُ شَجَرَةٌ و بمرتبه فنا فائز شدی پس در یں وقت درخت سلوک تو اور فنا کے مرتبہ تک پہنچ گیا۔ پس اس وقت تیرے سلوک کا درخت سُلُوكِكَ إِلى اَتَمَ النَّمَاءِ - وَتَصِلُ عُنُقُ رُوْحِكَ در گوالیدن خود بان درجه نشو و نما خواهد رسید که درجه کامله است و گردن روح تو اپنے کامل نشو ونما تک پہنچ جائے گا اور تیری رُوح کی گردن إلى لُعَاعِ رَوْضَةِ الْقُدْسِ وَالْكِبْرِيَاءِ - كَالنَّاقَةِ و آن شتر ماده تا سبزه نرم روضه قدس و بزرگی منتهی خواهد شد تقدس اور بزرگی کے مرغزار کے نرم سبزہ تک پہنچ جائے گی ۔ اُس اونٹنی کی مانند الْعَنْقَاءِ - إِذَا أَوْصَلَتْ عُنُقَهَا إِلَى الشَّجَرَةِ الْخَضْرَاءِ را بماند که گردن او دراز باشد و او گردن خود را تا درخت سبز رسانیده باشد جس کی گردن لمبی ہو اور اُس نے اپنی گردن کو ایک سبز درخت تک پہنچ دیا ہو