خطبة اِلہامِیّة — Page 37
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۳۷ خطبه الهاميه وَيُدْخِلَهَا فِي نَفْسِهِ حَتَّى تَسْرِيَ فِيْ كُلَّ ذَرَّةِ الْوَجُوْدِ و در نفس خود این حقیقت را در آرد تا آنکه در هر ذره وجود سرایت کند اور اس حقیقت کو اپنے نفس کے اندر داخل کرے یہاں تک کہ وہ حقیقت ہر ذرہ وجود میں داخل ہو جائے ۔ وَلَا يَهْدَهُ وَلَا يَسْكُنُ قَبْلَ أَدَاءِ هَذِهِ الضَّحِيَّةِ و راحت و آرام اختیار نہ کند تا بوقتے کہ ایس قربانی را برائے ربّ معبود خود اور راحت اور آرام اختیار نہ کرے جب تک کہ اس قربانی کو اپنے رب معبود کے لئے لِلرَّبِّ الْمَعْبُوْدِ - وَلَا يَقْنَعُ بِتَمُوْذَجٍ وَقِشْرٍ و آنچو نادانان و جاہلان محض بر نمونه و پوست نگذارد ادانہ کرلے۔ اور جاہلوں اور نادانوں کی طرح صرف نمونہ اور پوست بے مغز كَالْجُهَلَاءِ وَالْعُمْيَان - بَلْ يُؤَدِّي حَقِيْقَةَ قناعت نه ورزد پر قناعت نہ کر بیٹھے بلکه باید که حقیقت قربانی خود را بلکہ چاہیے کہ اپنی قربانی کی حقیقت أَضْحَاتِهِ - وَيَقْضِيْ بِجَمِيعِ حَصَاتِهِ - وَرُوْحِ تُقَاتِهِ بگذارد - و به تمام عقل خود و روح پر ہیز گاری خود کو بجالا وے اور اپنی ساری عقل کے ساتھ اور اپنی پر ہیز گاری کی روح سے رُوْحَ الْقُرْبَان - هذَا هُوَ مُنْتَهى سُلُوكِ السَّالِكِيْنَ ۔ روح قربانی را ادا کند ایں آں درجہ است کہ براں سلوک سالکاں انتہا پذیر می شود قربانی کی روح کو ادا کرے۔ یہ وہ درجہ ہے جس پر سالکوں کا سلوک انتہا پذیر ہوتا ہے وَغَايَةُ مَقْصَدِ الْعَارِفِينَ - وَعَلَيْهِ يَخْتَتِمُ جَمِيْعُ ومقصد عارفاں بغایت مطلوب می رسد و بر میں ختم می شوند درجہ ہائے اور عارفوں کا مقصد اپنی غایت کو پہنچتا ہے ۔ اور اس پر تمام درجے پر ہیز گاروں کے