کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 566

کشتیءنوح — Page 37

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۷ کشتی نوح یا زمین کا کوئی اور خدا ہے جو زمین پر مخالفانہ قبضہ رکھتا ہے اور عیسائیوں کو اس بات پر زور دینا اچھا نہیں کہ صرف آسمان میں ہی خدا کی بادشاہت ہے جو ابھی زمین پر نہیں آئی کیونکہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان کچھ چیز نہیں اب ظاہر ہے کہ جبکہ آسمان کچھ چیز نہیں جس پر خدا کی بادشاہت ہو اور زمین پر ابھی خدا کی بادشاہت آئی نہیں تو گویا خدا کی بادشاہت کسی جگہ بھی نہیں۔ ماسوا اس کے ہم خدا کی زمینی بادشاہت کو بچشم خود دیکھ رہے ہیں اُس کے قانون کے موافق ہماری عمر میں ختم ہو جاتی ہیں اور ہماری حالتیں بدلتی رہتی ہیں اور صد ہا رنگ کے راحت اور رنج ہم دیکھتے ہیں ہزار ہا لوگ خدا کے حکم سے مرتے ہیں اور ہزار ہا پیدا ہوتے ہیں دعائیں قبول ہوتی ہیں نشان ظاہر ہوتے ہیں زمین ہزار ہا قسم کے نباتات اور پھل اور پھول اس کے حکم سے پیدا کرتی ہے تو کیا یہ سب کچھ خدا کی بادشاہت کے بغیر ہو رہا ہے بلکہ آسمانی اجرام تو ایک ہی صورت اور منوال پر چلے آتے ہیں اور اُن میں تغییر تبدیل جس سے ایک مغیر مبدل کا پتہ ملتا ہو کچھ محسوس نہیں ہوتی مگر زمین ہزارہا تغیرات اور انقلابات اور تبدلات کا نشانہ ہو رہی ہے ہر روز کروڑ ہا انسان دنیا سے گزرتے ہیں اور کروڑ ہا پیدا ہوتے ہیں اور ہر ایک پہلو اور ہر ایک طور سے ایک مقتدر صانع کا تصرف محسوس ہو رہا ہے تو کیا ابھی تک خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں اور انجیل نے اس پر کوئی دلیل پیش نہیں کی کہ کیوں ابھی تک خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں آئی۔ البتہ مسیح کا باغ میں اپنے بچ جانے کے لئے ساری رات دعا کرنا اور دعا قبول بھی ہو جانا جیسا کہ عبرانیاں ۵۔ آیت سے میں لکھا ہے مگر پھر بھی خدا کا اُس کے چھڑانے پر قادر نہ ہونا یہ بزعم عیسائیاں ایک دلیل ہو سکتی ہے کہ اُس زمانہ میں خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں تھی مگر ہم نے اس سے بڑھ کر ابتلا دیکھے ہیں اور اُن سے نجات پائی ہے ہم کیونکر خدا کی بادشاہت کا انکار کر سکتے ہیں کیا وہ خون کا مقدمہ جو میرے قتل کرنے کے لئے مارٹن کلارک کی طرف سے عدالت کپتان ڈگلس میں پیش ہوا تھا وہ اُس مقدمہ سے کچھ خفیف تھا جو (۳۵) محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے نہ کسی خون کے اتہام سے یہودیوں کی طرف سے عدالت