کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 566

کشتیءنوح — Page 38

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۸ کشتی نوح پیلاطوس میں دائر کیا گیا تھا مگر چونکہ خدا از مین کا بھی بادشاہ ہے جیسا کہ آسمان کا اس لئے اُس نے اس مقدمہ کی پہلے سے مجھے خبر دے دی کہ یہ ابتلا آنے والا ہے اور پھر خبر دے دی کہ میں تم کو بری کروں گا اور وہ خبر صد با انسانوں کو قبل از وقت سنائی گئی اور آخر مجھے بری کیا گیا پس یہ خدا کی بادشاہت تھی جس نے اس مقدمہ سے مجھے بچا لیا جو مسلمانوں اور ہندوؤں اور عیسائیوں کے اتفاق سے مجھ پر کھڑا کیا گیا تھا ایسا ہی نہ ایک دفعہ بلکہ بیسیوں دفعہ میں نے خدا کی بادشاہت کو زمین پر دیکھا اور مجھے خدا کی اس آیت پر ایمان لانا پڑا کہ لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ لا یعنی زمین پر بھی خدا کی بادشاہت ہے اور آسمان پر بھی۔ اور پھر اس آیت پر ایمان لانا پڑا کہ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ یعنی تمام زمین و آسمان اُس کی اطاعت کر رہی ہے جب ایک کام کو چاہتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا تو فی الفور وہ کام ہو جاتا ہے اور پھر فرماتا ہے وَاللهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ کے یعنی خدا اپنے ارادہ پر غالب ہے مگر اکثر لوگ خدا کے قہر اور جبروت سے بے خبر ہیں غرض یہ تو انجیل کی دعا ہے جو انسانوں کو خدا کی رحمت سے نومید کرتی ہے اور اس کی ربوبیت اور افاضہ اور جزا سزا سے عیسائیوں کو بے باک کرتی ہے اور اس کو زمین پر مدد دینے کے قابل نہیں جانتی جب تک اس کی بادشاہت زمین پر نہ آوے لیکن اس کے مقابل پر جو دعا خدا نے مسلمانوں کو قرآن میں سکھلائی ہے وہ اس بات کو پیش کرتی ہے کہ زمین پر خدا مسلوب السلطنت لوگوں کی طرح بے کا رنہیں ہے بلکہ اس کا سلسلہ ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت اور مجازات زمین پر جاری ہے اور وہ اپنے عابدوں کو مدد دینے کی طاقت رکھتا ہے اور مجرموں کو اپنے غضب سے ہلاک کر سکتا ہے وہ دعا یہ ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ - إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ - اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ - آمين ترجمہ ۔ وہ خدا ہی ہے جو تمام تعریفوں کا مستحق ہے یعنی اس کی بادشاہت میں کوئی نقص نہیں اور الحديد : ٣ یس : ۸۳ يوسف : ٢٢ الفاتحة : ۲ تا ۷