کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 566

کشتیءنوح — Page 36

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۶ کشتی نوح دروازے کھلے ہیں جو مجرمین کی پاداش کے لئے خدا کے قانون قدرت نے مقرر کر رکھے ہیں پھر کیونکر کہا جائے کہ خدا کی زمین پر بادشاہت نہیں۔ سچ یہی ہے کہ بادشاہت تو ہے ہر ایک مجرم کے ہاتھ میں ہتکڑیاں پڑی ہیں اور پاؤں میں زنجیر ہیں مگر حکمت الہی نے اس قدرا اپنے قانون کو نرم کر دیا ہے کہ وہ ہتکڑیاں اور وہ زنجیریں فی الفور اپنا اثر نہیں دکھاتی ہیں اور آخر اگر انسان باز نہ آوے تو دائی جہنم تک پہنچاتی ہیں اور اُس عذاب میں ڈالتی ہیں جس سے ایک مجرم نہ زندہ رہے اور نہ مرے۔ غرض قانون دو ہیں ایک وہ قانون جو فرشتوں کے متعلق ہے یعنی یہ کہ وہ محض اطاعت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور ان کی اطاعت محض فطرت روشن کا ایک خاصہ ہے وہ گناہ نہیں کر سکتے مگر نیکی میں ترقی بھی نہیں کر سکتے (۲) دوسرا قانون وہ ہے جو انسانوں کے متعلق ہے یعنی یہ کہ انسانوں کی فطرت میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ گناہ کر سکتے ہیں مگر نیکی میں ترقی بھی کر سکتے ہیں یہ دونوں فطرتی قانون غیر متبدل ہیں اور جیسا کہ فرشتہ انسان نہیں بن سکتا ہے ایسا ہی انسان بھی فرشتہ نہیں ہوسکتا ہے یہ دونوں قانون بدل نہیں سکتے ازلی اور اٹل ہیں اس لئے آسمان کا قانون زمین پر نہیں آسکتا اور نہ زمین کا قانون فرشتوں کے متعلق ہو سکتا ہے۔ انسانی خطا کاریاں اگر توبہ کے ساتھ ختم ہوں تو وہ انسان کو فرشتوں سے بہت اچھا بنا سکتی ہیں کیونکہ فرشتوں میں ترقی کا مادہ نہیں انسان کے گناہ تو بہ سے بخشے جاتے ہیں اور حکمت الہی نے بعض افراد میں سلسلہ خطا کاریوں کا باقی رکھا ہے تا وہ گناہ کر کے اپنی کمزوری پر اطلاع پاویں اور پھر تو بہ کر کے بخشے جاویں یہی قانون ہے جو انسان کے لئے مقرر کیا گیا ہے اور اسی کو انسانوں کی فطرت چاہتی ہے سہو و نسیان انسانی فطرت کا خاصہ ہے فرشتہ کا خاصہ نہیں پھر وہ قانون جو فرشتوں (۳۴) کے متعلق ہے انسانوں میں کیونکر نافذ ہو سکے۔ یہ خطا کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف کمزوری منسوب کی جاوے صرف قانون کے نتائج ہیں جو زمین پر جاری ہورہے ہیں نعوذ باللہ کیا خدا ایسا کمزور ہے جس کی بادشاہت اور قدرت اور جلال صرف آسمان تک ہی محدود ہے