کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 566

کشتیءنوح — Page 31

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۱ کشتی نوح اس کو دیکھ رہا ہے اور خدا سے اِیتَاءِ ذِی الْقُرُبی یہ ہے کہ اُس کی عبادت نہ تو بہشت کے طمع سے ہو اور نہ دوزخ کے خوف سے۔ بلکہ اگر فرض کیا جائے کہ نہ بہشت ہے اور نہ دوزخ ہے تب بھی جوش محبت اور اطاعت میں فرق نہ آوے۔ اور انجیل میں لکھا گیا ہے کہ جو لوگ تم پر لعنت کریں اُن کے لئے برکت چاہو مگر قرآن کہتا ہے کہ تم اپنی خودی سے کچھ بھی نہ کرو ۔ تم اپنے دل سے جو خدا کی تجلیات کا گھر ہے فتویٰ پوچھو کہ ایسے شخص کے ساتھ کیا معاملہ چاہیے پس اگر خدا تمہارے دل میں ڈالے کہ یہ لعنت کرنے والا قابل رحم ہے اور آسمان میں اُس پر لعنت نہیں تو تم بھی لعنت نہ کرو تا خدا کے مخالف نہ ٹھہر ولیکن اگر تمہارا کانشنس اس کو معذور نہیں ٹھہرا تا اور تمہارے دل میں ڈالا گیا ہے کہ آسمان پر اس شخص پر لعنت ہے تو تم اس کے لئے برکت نہ چاہو جیسا کہ شیطان کے لئے کسی نبی نے برکت نہیں چاہی اور کسی نبی نے اس کو لعنت سے آزاد نہیں کیا مگر کسی کی نسبت لعنت میں جلدی نہ کرو کہ بہتیری بدظنیاں جھوٹیاں ہیں اور بہتیری لعنتیں اپنے ہی پر پڑتی ہیں سنبھل کر قدم رکھو اور خوب پڑتال کر کے کوئی کام کرو اور خدا سے مدد مانگو کیونکہ تم اندھے ہوا ایسا نہ ہو کہ عادل کو ظالم ٹھہراؤ ۔ اور صادق کو کاذب خیال کرو ۔ اس طرح تم اپنے خدا کو ناراض کر دو اور تمہارے سب نیک اعمال حبط ہو جاویں۔ ایسا ہی انجیل میں کہا گیا ہے کہ تم اپنے نیک کاموں کو لوگوں کے سامنے دکھلانے کے لئے نہ ﴿۲۹﴾ کر دو مگر قرآن کہتا ہے کہ تم ایسا مت کرو کہ اپنے سارے کام لوگوں سے چھپاؤ بلکہ تم حسب مصلحت بعض اپنے نیک اعمال پوشیدہ طور پر بجالا ؤ جب کہ تم دیکھو کہ پوشیدہ کرنا تمہارے نفس کے لئے بہتر ہے اور بعض اعمال دکھلا کر بھی کرو جب کہ تم دیکھو کہ دکھلانے میں عام لوگوں کی بھلائی ہے تا تمہیں دو بدلے ملیں اور تا کمزور لوگ کہ جو ایک نیکی کے کام پر جرات نہیں کر سکتے وہ بھی تمہاری پیروی سے اُس نیک کام کو کر لیں ۔ غرض خدا نے جو اپنے کلام میں فرمایا ۔ سراؤ عَلانِيَةً یعنی پوشیدہ بھی خیرات کرو اور دکھلا دکھلا کر بھی ۔ ان احکام کی حکمت اُس نے خود فرما دی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف قول سے لوگوں کو سمجھا ؤ بلکہ فعل سے بھی تحریک کرو کیونکہ