کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 566

کشتیءنوح — Page 32

روحانی خزائن جلد ۱۹ کشتی نوح ہر ایک جگہ قول اثر نہیں کرتا بلکہ اکثر جگہ نمونہ کا بہت اثر ہوتا ہے۔ ایسا ہی انجیل میں ہے کہ جب تو دعا مانگے تو اپنی کوٹھری میں جا۔ مگر قرآن سکھاتا ہے کہ اپنی دعا کو ہر یک موقعہ پر پوشیدہ مت کرو بلکہ تم لوگوں کے روبرو اپنے بھائیوں کے مجمع کے ساتھ بھی کھلے کھلے طور پر دعا کیا کرو تا اگر کوئی دعا منظور ہو تو اس مجمع کے لئے ایمان کی ترقی کا موجب ہو اور تا دوسرے لوگ بھی دعا میں رغبت کریں۔ ایسا ہی انجیل میں ہے کہ تم اس طرح دعا کرو کہ اے ہمارے باپ کہ جو آسمان پر ہے تیرے نام کی تقدیس ہو ۔ تیری بادشاہت آوے تیری مرضی جیسی آسمان پر ہے زمین پر آوے ہماری روزانہ روٹی آج ہمیں بخش۔ اور جس طرح ہم اپنے قرض داروں کو بخشتے ہیں تو اپنے قرض کو ہمیں بخش دے اور ہمیں آزمائش میں نہ ڈال بلکہ بُرائی سے بچا کیونکہ بادشاہت اور قدرت اور جلال ہمیشہ تیرے ہی ہیں۔ مگر قرآن کہتا ہے کہ یہ نہیں کہ زمین تقدیس سے خالی ہے بلکہ زمین پر بھی خدا کی تقدیس ہو رہی ہے نہ صرف آسمان پر جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِم يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ " یعنی ذرہ ذرہ زمین کا اور آسمان کا خدا کی تحمید اور تقدیس کر رہا ہے اور جو کچھ ان میں ہے وہ تحمید اور تقدیس میں مشغول ہے پہاڑ اس کے ذکر میں مشغول ہیں دریا اُس کے ذکر میں مشغول ہیں درخت اُس کے ذکر میں مشغول ہیں اور بہت سے ۳۰ راستباز اُس کے ذکر میں مشغول ہیں اور جو شخص دل اور زبان کے ساتھ اس کے ذکر میں مشغول نہیں اور خدا کے آگے فروتنی نہیں کرتا اس سے طرح طرح کے شکنجوں اور عذابوں سے قضا و قدرالہی فروتنی کرا رہی ہے اور جو کچھ فرشتوں کے بارے میں خدا کی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ نہایت درجہ اطاعت کر رہے ہیں یہی تعریف زمین کے پات پات اور ذرہ ذرہ کی نسبت قرآن شریف میں موجود ہے کہ ہر ایک چیز اُس کی اطاعت کر رہی ہے ایک پتہ بھی بجز اُس کے امر کے گر نہیں سکتا اور بجز اس کے حکم کے نہ کوئی دوا شفاء دے سکتی ہے اور نہ کوئی غذا موافق ہو سکتی ہے اور ہر ایک چیز غایت درجہ کی تذلیل اور عبودیت سے خدا کے آستانہ پر گری ہوئی ہے اور اُس کی فرمانبرداری میں مستغرق ہے۔ بنی اسرآئیل : ۴۵ الجمعة : ٢