کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 566

کشتیءنوح — Page 30

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۰ کشتی نوح جب کوئی انسان ایک متنازعہ فیہ امر میں گواہی نہ دے تب فیصلہ کے لئے خدائی گواہی کی ضرورت ہے اور قسم خدا کو گواہ ٹھہرانا ہے۔ اور قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ ہر ایک جگہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ وہ کہتا ہے جَزَوَا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ یعنی بدی کا بدلہ اُسی قدر بدی ہے جو کی گئی لیکن جو شخص عفو کرے اور گناہ بخش دے اور اس عفو سے کوئی اصلاح پیدا ہوتی ہو نہ کوئی خرابی تو خدا اس سے راضی ہے اور اُسے اُس کا بدلہ دے گا۔ پس قرآن کے رو سے نہ ہر یک جگہ انتقام محمود ہے اور نہ ہر یک جگہ عفو قابل تعریف ہے بلکہ محل شناسی کرنی چاہیے اور چاہیے کہ انتقام اور عفو کی سیرت بپابندی محل اور مصلحت ہو نہ بے قیدی کے رنگ میں یہی قرآن کا مطلب ہے اور قرآن انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ اپنے دشمنوں سے پیار کرو بلکہ وہ کہتا ہے کہ چاہیے کہ نفسانی رنگ میں تیرا کوئی بھی دشمن نہ ہو اور تیری ہمدردی ہر ایک کے لئے عام ہو مگر جو تیرے خدا کا دشمن تیرے رسول کا دشمن اور کتاب اللہ کا دشمن ہے وہی تیرا دشمن ہوگا سو تو ایسوں کو بھی دعوت اور دعا سے محروم نہ رکھ اور چاہیے کہ تو اُن کے اعمال سے دشمنی ۲۸ رکھے نہ ان کی ذات سے اور کوشش کرے کہ وہ درست ہو جائیں اور اس بارے میں فرماتا ہے۔ إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَآئِ ذِي الْقُرُبی کے یعنی خدا تم سے کیا چاہتا ہے بس یہی کہ تم تمام نوع انسان سے عدل کے ساتھ پیش آیا کرو پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان سے بھی نیکی کرو جنہوں نے تم سے کوئی نیکی نہیں کی۔ پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم مخلوق خدا سے ایسی ہمدردی کے ساتھ پیش آؤ کہ گویا تم اُن کے حقیقی رشتہ دار ہو جیسا کہ مائیں اپنے بچوں سے پیش آتی ہیں کیونکہ احسان میں ایک خود نمائی کا مادہ بھی مخفی ہوتا ہے اور احسان کرنے والا کبھی اپنے احسان کو جتلا بھی دیتا ہے لیکن وہ جو ماں کی طرح طبعی جوش سے نیکی کرتا ہے وہ کبھی خود نمائی نہیں کر سکتا۔ پس آخری درجہ نیکیوں کا طبعی جوش ہے جو ماں کی طرح ہو اور یہ آیت نہ صرف مخلوق کے متعلق ہے بلکہ خدا کے متعلق بھی ہے خدا سے عدل یہ ہے کہ اس کی نعمتوں کو یاد کر کے اس کی فرمانبرداری کرنا اور خدا سے احسان یہ ہے کہ اس کی ذات پر ایسا یقین کر لینا کہ گویا الشورى : ۴۱ ۲ النحل : ۹۱