کشتیءنوح — Page xxxv
کی روح کی تائید سے مَیں نے اس رسالہ کو لکھااور جیسا کہ خدا نے مجھے تائید دی مَیں نے یہی چاہا کہ ان تمام گالیوں کو جو میرے نبیؐ مطاع کو اور مجھے دی گئیں نظر انداز کرکے نرمی سے جواب لکھوں اور پھر یہ کاروبار خدا تعالیٰ کے سپرد کر دوں۔‘‘ (صفحہ ۳۶۴ جلد۱۹) اشتہار میں آریہ سماجیوں نے نو مسلموں کے متعلق یہ اعتراض کیا تھا کہ ان کا مسلمان ہونا اس وقت صحیح ہوتا جب وہ چاروں وید پڑھ کر آریہ دھرم کا اسلام سے مقابلہ کرتے۔حضرت اقدسؑ نے اس اعتراض کا مسکت و مدلّل اور الزامی جواب دیتے ہوئے اس امر پر روشنی ڈالی کہ تبدیل ئ مذہب کے لئے کس قدر علم ہونا ضروری ہے؟ فرمایا کہ تبدیل ئ مذہب کے لئے تمام جزئیات کی تفتیش کچھ ضروری نہیں صرف تین باتوں کا دیکھنا ضروری ہے۔اول یہ کہ اس مذہب میں خدا کی نسبت کیا تعلیم ہے یعنی اُس کی توحید، قدرت، علم، کمال اور عظمت، سزا اور رحمت اور دیگر لوازم اور خواص الوہیت کی نسبت کیا بیان کیا ہے۔دوم ہر نفس انسانی نیز بنی نوع اور قوم کے بارے میں وہ کیا تعلیم دیتا ہے۔سوم کیا وہ مذہب کوئی مردہ اور فرضی خد اتو نہیں پیش کرتا جو محض قصّوں اور کہانیوں کے سہارے پر مانا گیا ہو۔(دیکھو صفحہ ۳۷۳۔۳۷۴ جلد۱۹) اِن اصولی امور کا ذکر کرنے کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام نے بڑی تفصیل سے عیسائیوں اور آریہ سماج کے عقائد کا اسلام کے عقائد سے مقابلہ کر کے ثابت کیا ہے کہ یہ تینوں قسم کی خوبیاں صرف اسلام میں پائی جاتی ہیں۔پھر آریہ سماج کے بعض دیگر اعتراضات کا بھی جواب دیا ہے اور مسئلہ نیوگ پر بھی بحث کی ہے۔یہ رسالہ ۲۸؍ فروری ۱۹۰۳ء کو ایک ہفتہ کے اندر اندر تصنیف و طبع ہو کر عین اس وقت شائع ہواجبکہ قادیان کی آریہ سماج کا سالانہ جلسہ (۲۸؍ فروری اور یکم مارچ ۱۹۰۳ء ) ہو رہا تھا۔سناتن دھرم یکم مارچ ۱۹۰۳ء کو پنڈت رام بھجدت صاحب پریذیڈنٹ آریہ پرتی ندھی سبھا پنجاب لاہور نے ’’نسیم دعوت ‘‘میں مسئلہ نیوگ کے متعلق پڑھ کر اپنی آخری تقریر میں حضرت اقدسؑ کا ذکر کر کے کہا کہ ’’اگر وہ مجھ سے اس بارے میں گفتگو کرتے تو جو کچھ نیوگ کرانے کے فائدے ہیں مَیں سب اُن کے پاس بیان کرتا۔‘‘ (روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۴۶۷ )