کشتیءنوح — Page xxxvi
حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نیوگ کے بارے میں ایک ذمہ دارآریہ سماجی لیڈر کی یہ رائے سُن کر ۸؍ مارچ ۱۹۰۳ء کو یہ مختصر رسالہ ’’سناتن دھرم‘‘ شائع فرمایااور مسئلہ نیوگ کے خلافِ غیرت اور خلافِ فطرت انسانی ہونے اور اس کی قباحتوں کا ذکر فرمایااور ساتھ ہی سناتن دھرمیوں کی اِن الفاظ میں تعریف فرمائی:۔’’اور اس جگہ مجھے محض سچائی کی حمایت سے جو میرا فرض ہے اس قدر اور کہنا پڑا ہے کہ سناتن دھرم والے ان کی چند باتوں کو الگ کر کے آریہ سماجیوں سے ہزارہا درجہ بہتر ہیں۔وہ اپنے پرمیشر کی اس طرح بے حرمتی نہیں کرتے کہ ہم انادی اور غیر مخلوق ہونے کی وجہ سے اس کے برابر ہیں۔وہ نیوگ کے قابلِ شرم مسئلہ کو نہیں مانتے۔وہ اسلام پر بے ہودہ اعتراض نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اسلام کی باتیں سب قوموں میں مشترک ہیں۔وہ اکثر ملنسار ہیں۔اُن میں خطرناک شوخی اور تیزی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔بعض آریہ صاحبوں کی شوخی حد سے بڑھ گئی ہے۔یہی شوخی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ وہ بوٹی ہے جس کی جڑھ نہیں۔‘‘ (صفحہ ۴۷۴۔۴۷۵ جلد ۱۹) اور فرماتے ہیں:۔’’سناتن دھرم والے صرف گذشتہ اوتاروں سے محبت نہیں رکھتے بلکہ اِس کلجگ کے زمانہ میں وہ ایک آخری اوتار کے بھی منتظر ہیں جو زمین کو گناہ سے پاک کر دے گا۔پس کیا تعجب ہے کہ کسی وقت خدا کے نشانوں کو دیکھ کر سعادت مند ان کے خدا کے اِس آسمانی سِلسلہ کو قبول کرلیں کیونکہ اُن میں ضد اور ہٹ دھرمی بہت ہی کم ہے۔‘‘ (حاشیہ صفحہ ۴۷۵ جلد۱۹) پھر تبدیل ئ مذہب کے لئے جن تین باتوں کا ’’نسیم دعوت‘‘ میں ذکر ہے اُن کا ذکر اختصار کے ساتھ کیا ہے۔سو یہ مختصر رسالہ درحقیقت رسالہ ’’نسیم دعوت‘‘ کا تتمہ ہے۔خاکسار جلال الدین شمس ۲۳؍ستمبر ۱۹۶۶ء