کشتیءنوح — Page xxxiv
یعنی یا تو یہ مانا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اﷲ تعالیٰ کے کلمہ سے پیدا ہوئے ہیں یا نعوذ باﷲ یہ کہا جائے کہ آپ کی پیدائش ناجائز تھی اور ان لوگوں پر آپ نے تعجب کا اظہار فرمایا ہے جو حضرت عیسٰی ؑ کی بلاباپ پیدائش کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور یوسف کے نطفہ سے اس کی ولادت مانتے ہیں حالانکہ اُن کی بلاباپ پیدائش ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے ایک علامت کے طور پر تھی۔نسیم دعوت اوائل ۱۹۰۳ء میں قادیان کے بعض نو مسلم دوستوں نے محض ہمدردی اور خیر خواہی کی بنا ء پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مشورہ کئے بغیر ’’آریہ سماج اور قادیان کا مقابلہ‘‘ کے عنوان سے ایک اشتہار شائع کیاجس میں نہایت تہذیب اور متانت اور شائستگی سے آریوں ‘ہندوؤں اور سکھ اصحاب کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ دُعا اور مباہلہ یا ایک مذہبی کانفرنس کے ذریعہ سے اپنے اپنے مذہب کی صداقت کا اظہار کریں۔(تاریخ احمدیت جلد سوم بحوالہ الحکم ۲۱؍ فروری ۱۹۰۳ء) ۸؍ فروری کو آریہ سماج نے اس اشتہار کے جواب میں ایک اشتہار نہایت گندہ اور گالیوں سے بھرا ہوا شائع کیا۔اس اشتہار میں انہوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نسبت اعتراضات کے پیرایہ میں توہین و تحقیر کے سخت الفاظ لکھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت کے معزز احباب کی نسبت زبان درازی کی اور گندی گالیاں استعمال کیں جن کا نمونہ حضرت اقدس علیہ السلام نے نسیم دعوت میں دیا ہے۔(دیکھو صفحہ ۳۶۴ جلد ۱۹) ان کے سخت الفاظ اور گندی گالیوں کو دیکھتے ہوئے حضرت اقدس علیہ السلام کا دل تو یہی چاہتا تھا کہ ایسے گندہ دہن لوگوں سے خطاب نہ کیا جائے مگر وح ئ خاص سے آپ کو اس کا جواب لکھنے کے لئے حکم دیا گیا۔چنانچہ حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں:۔’’خدا تعالیٰ نے اپنی وح ئ خاص سے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اس تحریر کا جواب لکھ اور مَیں جواب دینے میں تیرے ساتھ ہوں۔تب مجھے اس مبشر وحی سے بہت خوشی پہنچی کہ جواب دینے میں مَیں اکیلا نہیں۔سو مَیں اپنے خدا سے قوت پا کر اُٹھا او ر اس