کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxiii of 566

کشتیءنوح — Page xxxiii

معارض پاویں تو اس حدیث کو چھوڑ دیں۔۔۔اور چاہئے کہ نہ وہ مولوی محمد حسین کے گروہ کی طرح حدیث کے بارہ میں افراط کی طرف جھکیں اور نہ عبداﷲ کی طرح تفریط کی طرف مائل ہوں۔بلکہ اس بارہ میں وسط کا طریق اپنا مذہب سمجھ لیں۔‘‘ (صفحہ ۲۱۲۔۲۱۳ جلد ۱۹) مواہب الرحمٰن مصری جریدہ ’’اللواء‘‘ کے ایڈیٹر مصطفےٰ کمال پاشاہ کو انگریزی زبان میں ایک اشتہار ملا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ اور آپ کے اور آپ کے کامل متبعین کے طاعون سے حفاظت سے متعلق وعدۂ الٰہی کا ذکر تھااور یہ کہ اﷲ تعالیٰ کے اس وعدۂ حفاظت کی بناء پر آپ نے فرمایا کہ مجھے اور میرے الدار میں رہنے والوں کو طاعون کے ٹیکا کے لگوانے کی ضرورت نہیں۔اِس پر اس مصری اخبار کے ایڈیٹر نے یہ اعتراض کیا کہ آپ نے ٹیکا کی ممانعت کر کے ترک اسباب کیا ہے اور دوا نہ کرنے کو مدارِ توکّل قرار دیا ہے اور یہ امر قرآن مجید کے مخالف اور آیت لا تلقوا باید یکم الی التھلکۃ کے منافی ہے اور توکّل کے بھی خلاف ہے۔اِس اعتراض کے جواب میں حضرت اقدس علیہ السلام نے عربی زبان میں ’’مواہب الرحمٰن‘‘ کے نام سے کتاب تصنیف فرمائی جو جنوری ۱۹۰۳ء میں شائع ہوئی۔اس کتاب میں ایڈیٹر مذکور کے اعتراض کا مفصل و مدلل جواب دیتے ہوئے اپنے عقائد اور جماعت کے لئے تعلیم اور ان نشانات کا بھی ذکر فرمایا ہے جو گذشتہ تین سال میں ظاہر ہوئے تھے اور عقائد کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :۔’’ومن عقاید نا ان عیسیٰ و یحیٰی قد وُلدا علٰی طریق خرق العادۃ۔‘‘(صفحہ۲۸۹ جلد۱۹) یعنی ہمارے عقائد میں سے یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت یحییٰ ؑ خرق عادت کے طور پر پیدا ہوئے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بلاباپ ولادت اور اس کی حکمت کا تفصیل سے ذکر فرما کر آخر میں یہ فیصلہ دیا کہ اہلِ بصیرت کے نزدیک قرآن اور انجیل کی شہادت کی رُو سے دو میں سے ایک بات ماننے کے سوا چارہ نہیں۔’’اما ان یقال انّ عیسٰی خلق من کلمۃ اﷲ العلام اویقال و نعوذ باﷲ منہ انہ من الحرام‘‘ (صفحہ ۲۹۶ جلد ۱۹)