کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxii of 566

کشتیءنوح — Page xxxii

مسلمانوں کے ہاتھ میں اسلامی ہدایتوں پر قائم ہونے کے لئے تین چیزیں ہیں۔(۱) قرآن شریف جو کتاب اﷲ ہے۔۔۔۔۔۔(۲) دوسری سنت۔۔۔سنّت سے مراد ہماری صرف آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تواتر رکھتی ہے اور ابتداء سے قرآن شریف کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی۔۔۔(۳) تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے اور حدیث سے مراد ہماری وہ آثار ہیں کہ جو قصّوں کے رنگ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے قریباً ڈیڑھ سو برس کے بعد مختلف راویوں کے ذریعوں سے جمع کئے گئے۔۔۔پس مذہب اسلم یہی ہے کہ نہ تو اس زمانہ کے اہلحدیث کی طرح حدیثوں کی نسبت یہ اعتقاد رکھا جائے کہ قرآن پر وہ مقدّم ہیں۔۔۔اور نہ حدیثوں کو مولوی عبداﷲچکڑالوی کے عقیدہ کی طرح محض لغو اور باطل ٹھہرایا جائے بلکہ چاہئے کہ قرآن اور سنّت کو حدیثوں پر قاضی سمجھا جائے اور جو حدیث قرآن اور سنّت کے مخالف نہ ہو اس کو بسر و چشم قبول کیا جاوے۔یہی صراطِ مستقیم ہے۔‘‘ (صفحہ۲۰۹تا۲۱۲ جلد ۱۹) فقہ احمدیہ کا بنیادی اصول: حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں:۔’’ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالفِ قرآن اور سنت نہ ہو تو خواہ کیسے ہی ادنیٰ درجہ کی حدیث ہو اُس پر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اس کو ترجیح دیں اور اگر حدیث میں کوئی مسئلہ نہ ملے اور نہ سنّت میں اور نہ قرآن میں مل سکے تو اس صورت میں فقہ حنفی پر عمل کر لیں کیونکہ اس فرقہ کی کثرت خدا کے ارادہ پر دلالت کرتی ہے اور اگر بعض موجودہ ّ تغیرات کی وجہ سے فقہ حنفی کوئی صحیح فتویٰ نہ دے سکے تو اس صورت میں علماء اِس سِلسلہ کے اپنے خداداد اجتہاد سے کام لیں لیکن ہوشیار رہیں کہ مولوی عبداﷲ چکڑالوی کی طرح بے وجہ احادیث سے انکار نہ کریں۔ہاں جہاں قرآن اور سنت سے کسی حدیث کو