کشتیءنوح — Page xxxi
ایک سال تک اس بات پر اٹھائیں کہ جوابات غلط ہیں اور ان جوابوں سے اعتراضات سارے کے سارے ویسے ہی قائم ہیں جن سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ منجانب اﷲ ہونے کا غلط ثابت ہوتا ہے اور یہ کہ آپ نے خدا تعالیٰ پر افترا کیا ہے۔نیز مَیں نے تو آپ کی کتاب کا جواب دیتے ہوئے کمالاتِ احمدیہ کے صفحہ ۳۶ پر الہامات کے اصل الفاظ لکھ کر مباہلہ کے لئے لکھا تھا جس سے آپ کی رُوح قبض ہوتی ہے۔اگر آپ اپنے آپ کو صادق و راستباز سمجھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دعویٰ الہام میں (نعوذ باﷲ) مفتری خیال کرتے ہیں تو کیوں مباہلہ کے لئے میدان میں نہیں آتے یا کیوں حلف مؤکّد بعذاب حسب شرائط نہیں کھاتے۔‘‘ مولوی صاحب کو آخر دم تک ’’کمالاتِ احمدیہ‘‘ کا ردّ لکھنے کی جرأت نہ ہوئی اور اس طرح ’’اعجازاحمدی‘‘ کے نشان کو مشتبہ کرنے کے لئے اُن کا مکر رائیگاں گیا۔اور اس سے صادق اور کاذب میں ایک نمایاں فرق ظاہر ہو گیا۔مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی عبداﷲ صاحب چکڑالوی کے مباحثہ پر مسیح موعود حَکَمِ ربّانی کا ریویو نومبر۱۹۰۲ء میں بٹالوی اور چکڑالوی کے مابین مباحثہ ہوا۔(مباحثہ کی تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو اشاعۃ السنۃ جلد ۱۹ نمبر ۵ صفحہ ۱۴۱۔۲۳۱) مولوی عبداﷲ صاحب چکڑالہ ضلع میانوالی کے رہنے والے تھے اور اپنے آپ کو اہلِ قرآن کہتے تھے اور ّ حجیت حدیث کے منکر تھے۔اُن کے مدمقابل مولوی محمد حسین بٹالوی حدیث کو قرآن پر بھی قاضی ٹھہراتے تھے گویا چکڑالوی صاحب نے احادیث کے بارے میں تفریط کا اور مولوی بٹالوی صاحب نے افراط کا راستہ اختیار کیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُن کے مباحثہ پر محاکمہ کرتے ہوئے اِس رسالہ میں تحریر فرمایا:۔