کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxx of 566

کشتیءنوح — Page xxx

نہیں ’’چہ نسبت خاک را با عالم پاک‘‘ دیکھو حضرت حجۃ اﷲ علی الارض نے جب ’’اعجاز احمدی‘‘ پر دس ہزار روپیہ انعام مقرر کیا تو ایک خاص شخص کے ہاتھ کتاب کو مولوی صاحب کے پاس پہنچایااور پھر ساتھ ہی اس کے صفحہ ۷۳ پر لکھ دیا:۔’’خدا تعالیٰ ان کی قلموں کو توڑ دے گا اور اُن کے دلوں کو غبی کر دے گا۔‘‘ یعنی مدتِ معینہ کے اندر وہ کچھ بھی اس کتاب کا جواب نہیں لکھ سکیں گے۔پس اس وقت مولوی صاحب اور اُن کے رفقا ء سے یہ نہ ہو سکا کہ وہ غلط یا صحیح جواب لکھ دیں۔پس مندرجہ بالا وجوہات کی بناء پر ہم نے مطالبہ انعام پر زور نہیں دیااور اس سے ہمارے جواب کی کمزوری نہیں بلکہ مضبوطی ظاہر ہوتی ہے کیونکہ ہم نے پبلک پر چھوڑا ہے کہ وہ دونو کتابوں کو پڑھ کر خود فیصلہ کریں کہ کس کی کتاب میں اصل حقیقت پائی جاتی ہے اور کس نے مزوّرانہ کارروائی کی ہے۔اگر مولوی صاحب کو اپنی کتاب کے لاجواب ہونے پر اعتماد تھا اور انعام کا فیصلہ کروانا چاہتے تھے تو آٹھ مہینے تک کیوں خاموش رہے اور اب نویں مہینے میں آ کر کس چیز نے اُن کے اندر قلق اور اضطراب پیدا کر دیا جس کی وجہ سے وہ مذکورہ بالا چند کلمات لکھنے پر مجبور ہو ئے۔پھر مولوی صاحب کو چاہئے تھا کہ آپ اُس وقت یہ عذر پیش کرتے جب خاکسار نے الحکم ۷؍ اگست ۱۹۲۴ء میں لکھا تھا:۔’’اب ہم مولوی صاحب کو کمالاتِ احمدیہ کے جواب کی طرف مکرر توجہ دلاتے ہیں اور چیلنج دیتے ہیں کہ اگر اُن میں کچھ جرأت و ہمّت باقی ہے تو اس کا جواب لکھیں۔‘‘ اُس وقت بھی آپ نے مقابلۃً ایک حرف نہ لکھا۔اصل بات یہ ہے کہ مولوی صاحب کو اس بات پر حسرت ہے کہ ہم نے کیوں چھ ماہ کے اندر اُن کے زعم کے برخلاف اور ان کی تمام تدبیروں پر پانی پھیرتے ہوئے مکمل و مدلّل جواب شائع کر کے اُن کے پاس پہنچا دیااور شائع کرنے سے پہلے اس تھوڑی سی مدّت کو جس میں ہمیں وہ رسالہ ملا منصف وغیرہ کی شرائط طے کرنے میں کیوں ضائع نہ کر دیا۔اور نمبر ۲ یعنی حلف مؤکد بعذاب اُٹھانے کا مَیں نے یہ جواب دیا:۔’’حضرت دوسروں سے حلف اٹھوانے کی ضرورت نہیں۔اعتراضات آپ کے ہیں جوابات میرے ہیں۔مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ ہی حلف مؤکد بعذاب