کشتیءنوح — Page xxix
لکھا کہ :۔مولوی صاحب کو معلوم ہو گا کہ جواب کی اشاعت سے پہلے اخبار فاروق کے ذریعہ مکرمی جناب میر قاسم علی صاحب نے دریافت کیا تھا کہ وہ شرائط جواب جن کے ماتحت وہ موعودہ رقم دینے والے ہیں لکھ کر یا بذریعہ ’’اہلحدیث‘‘ طبع کر کے جلد میرے پاس بھیج دیں نیز منصف وغیرہ کے متعلق بھی لکھیں کہ کس کو منصف مقرر کیا جائے گا اور کن شرائط کے ماتحت وہ فیصلہ دے گا۔‘‘ (فاروق ۱۳ ؍ و ۲۰؍ مارچ ۱۹۲۴ء) مگر مولوی صاحب نے اِس کا کوئی جواب نہ دیا۔اس کے بعد ہم نے گذشتہ تجربات کی بناء پر اور نیز مرتے ہوئے کو مارنا مناسب نہ سمجھ کر انعام لینے کے مطالبہ پر اصرار نہ کیا۔غور تو کرو کہ وہ شخص جو ایک انعامی کتاب لکھتا ہے اور پھر اسے اپنے ہمنواؤں میں چُھپا کر رکھتا ہے اور بار بار مطالبہ کرنے پر بھی بھیجنے سے دریغ کرتا ہوا خلاف واقعہ لکھ دیتا ہے کہ مَیں نے ایک رسالہ قادیان بھیج دیا تھا جس کے جواب میں قسم دی جاتی ہے (فاروق ۲؍ مارچ ۱۹۲۴ء) تو جواب کچھ نہیں دیتا۔آخر لکھا جاتا ہے کہ :۔’’اگریہ رسالہ بزعم خود لاجواب ہے تو کیوں نہیں بھیجتا۔اب اگر رجسٹری کرا کر نہیں بھیجتا تو بذریعہ وی۔پی بھیج دے۔‘‘ (الفضل ۴؍ مارچ ۱۹۲۴ء) پھر ۶؍ مارچ کے فاروق میں مکرر لکھا جاتا ہے تو مخلوق خدا سے شرما کر ۷؍ مارچ کو وی۔پی نمبر ۹۵۰۸ آٹھ آنے کو رسالہ بھیجتا ہے۔تو ایسے شخص سے ایک ہزار کا مطالبہ کرنا چیل کے گھونسلے سے گوشت تلاش کرنے والی بات نہیں تو اور کیا ہے۔پھر مولوی صاحب کو یاد ہو گا کہ اس سے پہلے بھی انہوں نے حدیث یخرج فی اٰخر الزمان دجال پر ’’اہلحدیث‘‘ ۶؍ جنوری ۱۹۲۲ء میں ایک انعام مقرر کیا تھا۔’’کہ اگر تم مرزا صاحب قادیانی کی روایت مندرجہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۷۳ کسی کتاب سے دکھا دو تو لدھیانہ کا تین سو روپیہ تم سے لیا ہوا واپس کرنے کا وعدہ لکھا لو۔‘‘ جب الفضل ۹؍ جنوری ۱۹۲۲ء میں مکرمی و مخدومی جناب قاضی محمد اکمل صاحب کی طرف سے یہ چیلنج منظور کیا گیا تو انہیں بغلیں جھانکنے اور اِدھر اُدھرکی باتیں اور چیلنج کے الفاظ تبدیل کرنے کے سوا اور کچھ نہیں سوجھا تھا۔مولوی صاحب خدا تعالیٰ کے پہلوان کی طرح انعام مقرر کرنا چاہتے ہیں جن سے اُن کو کوئی نسبت